خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 374
خطبات مسرور جلد چہارم 374 خطبہ جمعہ 28 جولائی 2006 کے جو معززین ہوتے ہیں ان کی رہائش اور خوراک کے انتظام کو جس حد تک آرام دہ بنایا جا سکتا ہے بنایا جائے کہ یہ بھی حکم ہے کہ جب تمہارے پاس کسی قوم کے معزز لوگ آئیں تو ان کو عزت دو اور احترام سے پیش آؤ۔لیکن اس کے علاوہ احمدیوں کی بھی ان کے مزاج کے مطابق مہمان نوازی ہوتی ہے۔جماعتی نظام کے تحت اب اللہ تعالیٰ کے فضل سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا لنگر اتنا وسیع ہو گیا ہے کہ مختلف طبائع ، مزاج اور علاقوں کے رہنے والوں کے لئے ان کی پسند کی خوراک مہیا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے لیکن پھر بھی انتظام میں لمیاں رہ سکتی ہیں۔اگر کسی وقت کسی کی صحیح طور پر مہمان نوازی نہ ہو سکے، کہیں کمی رہ جائے ، مزاج کے مطابق کھانا نہ ملے تو مہمان کا کام نہیں ہے کہ برا منائے۔اگر مزاج کے مطابق نہیں ہے تو پھر بھی صبر شکر کر کے، بغیر انتظامیہ پر یا کام کرنے والے کارکنان پر اعتراض کئے ، کھانا کھا لینا چاہئے یا پھر بغیر اعتراض کے وہاں سے آجائیں اور کسی کارکن کو یہ احساس نہ ہونے دیں کہ تمہارا کھانا میرے پسند یا معیار کے مطابق نہیں ہے اس لئے میں نہیں کھا رہا۔بازار میں، یہاں جلسے کے دنوں میں بازار لگتے ہیں، مختلف قسم کی چیزیں ملتی ہیں وہاں جا کر اپنی خواہش پوری کر سکتے ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ مہمان کو میز بان کی طرف سے جو کچھ پیش کیا جائے وہ خوشی سے کھائے۔جیسا کہ میں نے بتایا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کس طرح مہمانوں کا خیال رکھتے تھے لیکن ان دنوں میں جب رش ہوتا تھا، جلسے کے دن ہیں، کسی خاص مقصد کے لئے لوگ آئے ہوتے ہیں، آپ فرمایا کرتے تھے کہ تمام مہمانوں سے ایک جیسا سلوک کرو، اگر کسی کی خاص ضرورت ہے تو وہ اس ضرورت کو خود پوری کرے۔چنانچہ ایک واقعہ کا یوں ذکر ملتا ہے۔مولوی غلام حسن صاحب پشاوری اور ان کے ہمراہیوں کے لئے خاص طور پر چند کھانوں کا انتظام کرنے پر آپ نے فرمایا : ” میرے لئے سب برابر ہیں، اس موقع پر امتیاز اور تفریق نہیں ہو سکتی۔سب کے لئے ایک ہی قسم کا کھانا ہونا چاہئے ، یہاں کوئی چھوٹا بڑا نہیں ہے۔مولوی صاحب کے لئے الگ انتظام ان کی لڑکی کی طرف سے ہو سکتا ہے اور وہ اس وقت میرے مہمان ہیں اور سب مہمانوں کے ساتھ ہیں۔اس لئے سب کے لئے ایک ہی قسم کا کھانا تیار کیا جائے۔خبر دار کوئی امتیاز کھانے میں نہ ہو۔(سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام مرتبہ یعقوب علی عرفانی جلد اول صفحہ 157) تو ایسے مہمانوں کے لئے یہ نصیحت ہے جو بعض دفعہ کھانے میں کسی قسم کی کمی کا احساس دلاتے ہیں۔پھر بعض لوگ رہائش پر بھی اعتراض کر دیتے ہیں کہ ہمیں علیحدہ رہنے کی عادت ہے، ہمارے لئے علیحدہ