خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 270 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 270

خطبات مسرور جلد چهارم 270 خطبہ جمعہ 02 جون 2006ء مسیح محمدی کو مانیں۔ماننے کے حکم کے سب سے پہلے مخاطب مسلمان ہیں۔اور پھر دیکھیں کہ اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت مسلمان امت پر کس طرح نازل ہوتی ہے۔پس آج کل کے حالات کی وجہ مسلمانوں کی عمومی کمزوری اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا انکار بھی ہے۔ورنہ یہ تو ہو نہیں سکتا کہ گزشتہ انبیاء سے کئے گئے وعدے تو اللہ تعالیٰ پورے فرماتا رہا لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جو تمام نبیوں کے سردار ہیں اور جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں زمین و آسمان پیدا نہ کرتا اگر تجھے پیدا نہ کرتا، ایسے اعلیٰ پائے کے نبی اور خاتم الانبیاء سے کئے گئے وعدے اللہ تعالیٰ پورے نہ فرماتا۔ہم پھر ہمدردی کے جذبے سے اور مسلم امہ سے محبت کی وجہ سے کہتے ہیں اور کہتے رہیں گے کہ سوچیں اور غور کریں، مسلمان ملکوں میں احمدیت اور امام الزمان کی مخالفت کی بجائے اس کے مددگار بنیں، اس پر ایمان لائیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئیوں کو پورا کریں تا کہ اللہ تعالیٰ بھی ہر لمحہ اور ہر آن مسلمانوں کا مددگار ہو۔آج ہم دعوے سے کہہ سکتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے یہ وعدے مومنین کی جماعت جنہوں نے حقیقی طور پر زمانے کے امام کو مانا ہے اور جو اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حکموں پر عمل کر رہے ہیں، ان کے ساتھ تو پورے ہورہے ہیں۔اس جماعت کے ساتھ تو پورے ہو رہے ہیں اور من حیث الجماعت ہم ہر روز ایک نئی شان سے پورا ہوتے دیکھ رہے ہیں۔پس ہر احمدی کو بھی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کی مدد کو مزید حاصل کرنے کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پیغام کو پہلے سے بڑھ کر دنیا کو پہنچانے کی کوشش کرے۔دنیا کو بتائیں کہ اگر زمانے کے امام کو نہیں مانو گے تو اس دنیا میں بھی اللہ تعالیٰ کی مدد سے محروم رہو گے اور اگلے جہان میں بھی اللہ تعالیٰ کے فرمان کے مطابق ، اس انذار کے مطابق ان کے خلاف نبی بھی گواہ کھڑے ہوں گے، فرشتے بھی گواہ کھڑے ہوں گے بلکہ جیسا کہ میں نے پہلے بھی بتایا کہ جسم کے تمام اعضاء بھی گواہی دیں گے کہ باوجود پیغام پہنچنے کے باوجود مسیح موعود کا دعوئی سننے کے تم لوگوں نے نہ صرف انکار کیا بلکہ مخالفت کی اور مخالفت میں بھی اتنے بڑھے کہ احمدیوں پر ظلم کی وہ داستانیں رقم کرنے لگے جو بعض پہلے انبیاء کی قو میں اپنے انبیاء اور ان سے مانے والوں سے کرتی ہیں۔بلکہ مسلمانوں کی ابتدائی تاریخ میں بھی ظلم ہوتے رہے۔لیکن اس سلوک سے جماعت کو کبھی بھی نقصان نہیں پہنچا بلکہ ہر موقع پر ہم نے دیکھا کہ اللہ تعالیٰ کی تائید اور مدد کے نظارے اللہ تعالیٰ نے پہلے سے بڑھ کر ہمیں دکھائے اور مخالفت کی ہر آندھی جماعت کو اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کی نصرت سے اور اونچا اڑا کر لے گئی۔ہم کسی حکومت پر کسی تنظیم پر نہ تو بھروسہ کرتے ہیں، نہ ہی kh5-030425