خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 269 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 269

خطبات مسرور جلد چہارم 269 خطبہ جمعہ 02 جون 2006ء علیہ الصلوۃ والسلام کو ماننے کے بعد تو ہم نے بظاہر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور اللہ تعالیٰ کے تمام حکموں کی تعمیل کر دی ہے۔اب اللہ تعالیٰ کے وعدے کے مطابق یقینا ہمیں ان لوگوں میں شمار ہونا چاہئے جن کی اللہ تعالی مدد فرماتا ہے یا جن سے مددفرمانے کا وعدہ فرمایا ہے۔پس ہر احمدی کو اپنا جائزہ لینا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کی مدد اور نصرت کی وجہ سے ہم میں وہ کیفیت پیدا ہو گئی ہے؟ جب ہر لمحہ اور ہر آن اللہ تعالیٰ کی مدد اور نصرت کی ہم پر بارش ہوتی ہے یا ہو رہی ہے۔ایسی مدد جو ہماری زندگیوں میں وہ نمو پیدا کرنے والی ہو جس سے ہر طرف آنکھوں کو روشن کرنے والا اور دل کو لبھانے والا سبزہ نظر آتا ہو کیونکہ اللہ تعالیٰ نے تو ایمان لانے والوں سے اس سلوک کا اظہار فرمایا ہے کہ اس دنیا میں بھی اُن کا مددگار ہوگا اور اگلے جہان میں بھی ، جبکہ ہر چیز کی گواہی ہوگی حتی کہ اپنے اعضاء کی بھی گواہی ہوگی اور وہاں پھر کوئی غلط بیان نہیں دیا جا سکتا۔جو بھی گواہی ہوگی وہ حقیقت بیان کرنے والی ہوگی اور جو اللہ تعالیٰ کے احکامات پر صحیح عمل کرنے والے ہیں جن کی اللہ تعالیٰ نے مدد فرمانے کا وعدہ کیا ہے اس وقت جو ایسے لوگ ہوں گے ہر ایک کے ساتھ اللہ تعالیٰ اپنے وعدے کے مطابق نصرت فرماتے ہوئے بخشش کا سلوک فرمائے گا اور اپنی بخشش کی چادر میں لپیٹ لے گا۔من حیث الجماعت تو اللہ تعالیٰ نے اپنے انبیاء سے، اپنے پیاروں سے وعدے کے مطابق ہمیشہ مددفرمائی ہے اور فرماتا ہے لیکن انفرادی طور پر بھی اپنی حالتوں کو خالصتا اللہ تعالیٰ کے حکموں کے مطابق ڈھالتے ہوئے ہر ایک کو اللہ تعالیٰ کی نصرت کو جذب کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔اور اللہ تعالیٰ کے اس وعدے اور اس خوشخبری سے فائدہ اٹھانا چاہئے کہ میں کامل ایمان والوں کی دنیا و آخرت میں مدد کروں گا۔آج احمدی ہی ہیں جو اللہ تعالیٰ کے اس وعدے کے حقیقی مخاطب بھی ہیں اور مصداق بھی ہیں۔دوسرے مسلمان جنہوں نے اس زمانے کے امام کو نہیں مانا وہ تو خود ہی اپنے آپ کو اس خوشخبری سے باہر نکال رہے ہیں کیونکہ انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان کے دعوے کے باوجود آپ کے بعض حکموں پر عمل نہیں کیا اور پیشگوئیوں کی تصدیق نہیں کی۔اور یہی وجہ ہے کہ عمومی طور پر آج ہم اللہ تعالیٰ کی تائید ونصرت کے نظارے مسلمانوں پر اس وعدے کے مطابق پورے ہوتے نہیں دیکھ رہے۔اگر کوئی کہے کہ نہیں، یہ غلط ہے۔مسلمانوں کی موجودہ حالت کا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے انکار سے کوئی تعلق نہیں ہے تو پھر ہمیں کوئی یہ دکھائے کہ اللہ تعالیٰ کی اس نصرت کا وعدہ کہاں ہے۔یقینا اللہ تعالیٰ کا وعدہ جھوٹا نہیں ہوسکتا۔اگر کوئی کمی ہے، کوئی کمزوری ہے تو مسلمانوں کے ایمان کی حالت میں ہے۔ورنہ یہ بھی نہیں ہوسکتا کہ نہ ماننے والوں اور کفار کے منصوبے خاک میں نہ ملیں۔پس اب بھی وقت ہے کہ اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت اس دنیا میں دیکھنے کے لئے اور اگلے جہان میں گواہوں کے کھڑے ہونے سے پہلے اس kh5-030425