خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 271
خطبات مسرور جلد چهارم 271 خطبہ جمعہ 02 جون 2006ء مدد مانگتے ہیں۔ہماری مددتو ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے حضور جھکتے ہوئے اس سے مانگتے ہوئے اسی سے وابستہ رہی ہے۔ہاں بعض گروہوں کی بعض حرکتوں کا، ان کی تصویر دکھانے کے لئے ، ان کا چہرہ دکھانے کے لئے ، دنیا کو بتاتے ضرور ہیں کہ احمدیوں کے ساتھ بعض جگہوں پر بعض ملکوں میں کیا کچھ ہورہا ہے۔لیکن یہ توقع کبھی نہیں رکھی کہ یہ لوگ ہمارے معین و مددگار ہیں یا ان لوگوں پر ہمارا بھروسہ ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : اللہ تعالیٰ کا وعدہ کہ ﴿إِنَّا لَتَنْصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِيْنَ آمَنُوْا فِي الْحَياةِ الدُّنْيَا (المومن :52) ایک یقینی اور حتمی وعدہ ہے۔میں کہتا ہوں کہ بھلا اگر خدا کسی کے دل میں مدد کا خیال نہ ڈالے تو کوئی کیونکر مدد کر سکتا ہے۔اصل بات یہی ہے کہ حقیقی معاون و ناصر وہی پاک ذات ہے جس کی شان نِعْمَ الْمَوْلَى وَنِعْمَ النَّصِيْرُ وَ نِعْمَ الْوَكِيْل ہے۔دنیا اور دنیا کی مدد میں ان لوگوں کے سامنے گالمیت ہوتی ہیں۔یعنی ایک مردے کی طرح ہوتی ہیں اور وہ مردہ کیڑے کے برابر بھی حقیقت نہیں رکھتی ہیں“۔( ملفوظات جلد اول صفحه 107-108 جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ ) تو یہ تو ہے ہمارا مدد کا ایک تصور اور ایک تعلیم جس پر ہم عمل کرتے ہیں۔جیسا کہ میں نے شروع میں کہا تھا۔اللہ تعالیٰ کی صفت ہے ناصر نصیر۔اب میں قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے جو اپنے انبیاء سے مدد کے سلوک کے اور ان کے مشکل وقت میں دشمن کے خلاف مدد کے نظارے دکھائے ہیں ان کی کچھ مثالیں دیتا ہوں۔حضرت نوح کی پکار پر اللہ تعالیٰ نے کس طرح دعا کو قبول کیا اور ظالموں سے نجات دلائی۔اس کا ذکر قرآن کریم میں یوں آتا ہے ﴿وَنُوْحًا إِذْ نَادَى مِنْ قَبْلُ فَاسْتَجَبْنَالَهُ فَنَجَّيْنَهُ وَأَهْلَهُ مِنَ الْكَرْبِ الْعَظِيْمِ۔وَنَصَرُنَهُ مِنَ الْقَوْمِ الَّذِيْنَ كَذَّبُوْا بِايْتِنَا۔إِنَّهُمْ كَانُوْا قَوْمَ سَوْءٍ فَأَغْرَقْنَهُمْ أَجْمَعِينَ ﴾ (الانبیاء :77-78) اور نوح کا بھی ذکر کر جب قبل از میں اس نے پکارا تو ہم نے اسے اس کی پکار کا جواب دیا اور اسے اور اس کے اہل کو ایک بڑی بے چینی سے نجات بخشی۔اور ہم نے اس کی اُن لوگوں کے مقابل مدد کی جنہوں نے ہماری آیات کو جھٹلا دیا تھا۔یقیناً وہ ایک بڑی بدی میں مبتلا لوگ تھے پس ہم نے ان سب کو غرق کر دیا۔جس طرح حضرت نوح علیہ الصلوۃ والسلام کو اللہ تعالیٰ نے کشتی کے ذریعہ سے بچایا تھا اور دعا قبول کرتے ہوئے قوم کو غرق کیا تھا اس زمانے میں بھی ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بھی اللہ تعالیٰ نے طاعون کا نشان دے کر فرمایا کہ وَاصْنَعِ الْفُلْكَ بِأَعْيُنِنَا وَوَحْيِنَا إِنَّ الَّذِيْنَ kh5-030425