خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 268 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 268

خطبات مسرور جلد چهارم 268 خطبہ جمعہ 02 جون 2006ء علیہ وسلم کی زندگی میں ہمیں نظر آتی ہے ہم دیکھتے ہیں کہ کیسے کیسے کٹھن اور مشکل حالات اور مقامات سے اللہ تعالیٰ اپنے ان خاص بندوں کو اپنی نصرت فرماتے ہوئے نکال کر لے آتا ہے اور پھر اس کے بعد یہ اللہ تعالیٰ کی تائید ونصرت کے نظارے انبیاء کے وقت میں، ان کی زندگی میں ان کے ماننے والے اور اس تعلیم پر عمل کرنے والوں میں ہم دیکھتے ہیں۔اور پھر بعد میں جو اس حقیقی تعلیم کے ساتھ چھٹے رہتے ہیں جو کہ وہ انبیاء لے کر آئے وہ لوگ یہ نظارے دیکھتے ہیں۔اور جیسا کہ میں نے کہا اللہ تعالیٰ کی صفات اور اس کے فضلوں سے حصہ پانے کی معراج آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات بابرکات ہے اور آپ پر ایمان اور آپ کی تعلیم پر مکمل عمل اللہ تعالیٰ کے فضلوں اور نصرتوں کا حصہ دار بناتا ہے اور اس تعلیم پر عمل کرنے والوں کی دنیاو آخرت سنوارتا ہے۔یہ اللہ تعالیٰ کا اس رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور مومنوں سے وعدہ ہے۔یہ آیت جو میں نے تلاوت کی ہے اس میں اللہ تعالیٰ یہی فرماتا ہے کہ یقیناً ہم اپنے رسول کی اور ان کی جو ایمان لائے ہیں اس دنیا کی زندگی میں بھی مدد کریں گے اور اُس دن بھی جب گواہ کھڑے ہوں گے۔اللہ تعالیٰ نے اس کے علاوہ بھی قرآن کریم میں بہت سی آیات میں اپنی صفت ناصر اور نصیر کا مختلف پہلوؤں اور مختلف مضامین کے ساتھ بیان فرمایا ہے۔رسول اور مومنوں سے اللہ تعالیٰ نے مدد کے وعدے کئے اس کا ایک نمونہ ہم اس آیت میں دیکھ چکے ہیں جو میں نے پڑھی ہے۔پھر ہم دیکھتے ہیں کہ کس طرح اور کن لوگوں کی خدا نے مدد کی ، کن انعامات کے ساتھ مدد کی ، کن مختلف حالات میں مدد کی جبکہ ایک لحاظ سے بعضوں پر مایوسی کی کیفیت طاری تھی اور اس طرح کے کئی مضمون ہیں۔آج میں کوشش کروں گا کہ اللہ تعالیٰ کی اس صفت کے ذکر میں کچھ آیات آپ کے سامنے رکھوں۔اگر ہم لغت میں دیکھیں تو اس لفظ نَضر اور نصر یا ناصر کے بڑے وسیع معنے ملتے ہیں۔مثلاً النضر کا مطلب ہے مددگار ، بارش۔النفرة کا مطلب ہے مدد ، بہترین مدد، بارش۔تو یا درکھنا چاہئے کہ جب اللہ تعالیٰ ناصر بنتا ہے اور نصرت فرماتا ہے، مدد کرتا ہے، مددگار ہوتا ہے تو ایک عام انسانی سوچ والی مدد نہیں ہوتی بلکہ اس کی مدد ایسی کامل اور بھر پور اور زندگی بخش اور بارش کی طرح برسنے والی مدد ہوتی ہے جس میں کوئی سقم نہیں ہو سکتا اور اس مدد کے مقابل پر کوئی مخالف ٹھہر نہیں سکتا۔لیکن اس مدد کو حاصل کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ کا خالص بندہ بنا اور وہ حالت پیدا کرنا ضروری ہے جو انبیاء پیدا کرنا چاہتے ہیں۔بلکہ یہ کہ سکتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آپ ہی کے طفیل یہ مددمانی ہے اور وہ مدد حاصل کرنے کی ہمیں کوشش کرنی چاہئے۔وہ حالت ہمیں حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے جو آپ سہم میں پیدا کرنا چاہتے تھے۔پس ہم خوش قسمت ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اسلام جیسی نعمت سے نوازا ہے اور پھر حضرت مسیح موعود kh5-030425