خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 232
232 خطبہ جمعہ 12 مئی 2006 ء خطبات مسرور جلد چهارم عدے کو پورا فرما رہا ہے۔لیکن روزانہ کے یہ فضل ہم پر بہت بڑی ذمہ داریاں ڈال رہے ہیں۔آج ہر احمدی کو ان ذمہ داریوں کو سمجھنا چاہئے۔خاص طور پر آپ جو اس خطہ ترمین میں رہ رہے ہیں جن سے میں آج براه راست مخاطب ہوں۔آپ لوگوں کو اپنی ذمہ داریوں کو سمجھنے کے لئے اپنے جائزے لینے ہوں گے کہ کس حد تک ہم ان ذمہ داریوں کو نبھا رہے ہیں، کس حد تک ہم نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بیعت میں آنے کے بعد اپنے اندر ایسی تبدیلی پیدا کرنے کی کوشش کی ہے جو خدا کا خالص بندہ بنانے والی ہو، کس حد تک ہم نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اس پیغام کو جو حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہی حقیقی پیغام ہے اس علاقے کے لوگوں تک پہنچانے کی کوشش کی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو 1902ء میں اس ملک میں اسلام کا پیغام پہنچانے کی طرف توجہ پیدا ہوئی تو آپ نے فرمایا کہ اگر خدا چاہے گا تو اس ملک میں طالب اسلام پیدا کر دے گا۔پھر آپ نے اس ملک میں اسلام کی خوبیوں پر مشتمل لٹریچر شائع کر کے پھیلانے کی خواہش کا بھی اظہار فرمایا۔پھر آپ نے ایک موقع پر فرمایا کہ جاپانیوں کو عمدہ مذہب کی تلاش ہے۔تو اس ملک کے بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی یہ خواہش اور ہدایت تھی۔1935ء میں حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہاں مبلغ بھجوائے۔اپنے وسائل کے لحاظ سے انہوں نے خوب کام کیا۔1959ء میں یہاں پہلے احمدی بھی ہوئے اور ماشاء اللہ خوب ایمان واخلاص میں ترقی بھی کی۔پھر جنگ کی وجہ سے حالات بدلے، دوسری جنگ عظیم کی وجہ سے کچھ روکیں بھی پیدا ہوئیں ، پھر اس جنگ کے نتیجہ کے طور پر اس ملک کو بہت بڑا نقصان بھی ہوا۔لیکن اس بہت بڑے نقصان کے بعد اپنے آپ کو ایک باہمت قوم ثابت کرتے ہوئے اس قوم نے پھر اقتصادی لحاظ سے بہت زیادہ ترقی کی۔لیکن دنیا کی دوسری قوموں کی طرح یہاں بھی اس ترقی کے ساتھ مادیت کی طرف زیادہ رجحان پیدا ہوا۔تا ہم اس کے باوجود آج بھی ان میں مذہب کے بارے میں احترام ہے اور اسلام کو سمجھنے کی خواہش رکھتے ہیں۔بعض ملنے والوں نے مجھ سے اس بات کا اظہار کیا، جن میں پڑھے لکھے لوگ بھی تھے اور سیاستدان بھی، کہ ہم اسلام کو جانتے نہیں ہیں ، ہمیں بتایا جائے کہ اسلام کیا چیز ہے۔بہر حال اس ملک کی اقتصادی بہتری کی وجہ سے آپ جو احمدی میرے سامنے بیٹھے ہوئے ہیں جن میں سے اکثریت پاکستانی احمدیوں کی ہے، آپ لوگوں کو یہاں آنے اور اس ملک میں کام یا کاروبار کرنے کا موقع ملا۔چند ایک نے یہاں جاپانی عورتوں سے شادیاں بھی کیں۔ایک دو جاپانی مردوں نے بھی پاکستانی عورتوں سے شادیاں کیں۔اکثر جاپانی مرد اور عورتیں جو احمدی ہوئے وہ خود بھی اور ان کی اولادیں بھی ماشاء اللہ جماعت سے تعلق اور وفا رکھتے ہیں اور عہد بیعت پر پختگی سے قائم ہیں۔بعضوں سے میری بات ہوئی تو ان میں جذباتی کیفیت طاری ہو گئی۔گو کہ یہ جاپانی چند ایک ہی ہیں لیکن ان کی اولادیں انشاء اللہ تعالیٰ جب پھیلیں گی تو پھر مزید جڑیں مضبوط ہوں گی۔تو جیسا کہ میں ذکر کر رہا تھا کہ اس ملک کی اقتصادی حالت بہتر ہونے کی وجہ سے kh5-030425