خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 233 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 233

233 خطبہ جمعہ 12 مئی 2006 ء خطبات مسرور جلد چہارم آپ لوگ پاکستان سے آنے والے احمدی ہیں جن کے خاندانوں میں احمدیت ایک عرصے سے آئی ہوئی ہے اور بعض صحابہ کی اولاد میں سے بھی ہیں ، ان کو ہر وقت یہ پیش نظر رکھنا چاہئے کہ وہ یہاں اسلام اور احمدیت کا نمائندہ ہیں۔شروع میں تو ایک آدھ یہاں مبلغ ہی تھے لیکن گزشتہ 20-25 سال میں غیر جاپانی احمدیوں کی تعداد بڑھنی شروع ہوئی اور اب اللہ تعالیٰ کے فضل سے آپ تقریباً 200 کے قریب ہیں۔اگر ہر ایک حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی اس خواہش کو سامنے رکھے کہ اس قوم تک اسلام کا پیغام پہنچانا ہے تو یقیناً یہاں احمدیت کے پھیلنے کے امکانات ہیں کیونکہ ان میں سے بہت ساری سعید روحیں ہیں جو مذہب کی تلاش میں بھی ہیں۔پس ہر احمدی کو چاہیے کہ صرف اس بات پر ی انحصار نہ کریں کہ مبلغین یہ کام کریں گے بلکہ خود اپنے آپ کو اس کام میں ڈالیں لیکن تبلیغ کے کام میں ڈالنے سے پہلے خود اپنے جائزے لیں کہ کس حد تک خود اس تعلیم پر عمل کرنے والے ہیں۔اور اپنی اصلاح کی طرف توجہ کریں۔خود اپنا تعلق اللہ تعالیٰ سے جوڑیں، خود اپنی زندگیوں کو اسلام کی تعلیم کے مطابق ڈھالیں ، جنہوں نے یہاں کی عورتوں سے شادیاں کی ہوئی ہیں ان کے حقوق ادا کرنے کی کوشش کریں۔ان کے عزیزوں ، رشتہ داروں کو اسلام کی خوبصورت تعلیم کا پیغام پہنچا ئیں۔آپ کے اپنے عملی نمونے ہی ہیں جو ان لوگوں کی توجہ آپ کی طرف کھینچنے کا باعث بنیں گے۔اگر صرف دنیاداری ہی آپ کے سامنے رہی اور دنیا داری کی طرف ہی جھکے رہے تو پھر کس منہ سے آپ اسلام کی طرف بلانے والے بہنیں گے۔پس یہ عملی نمونے قائم کرنے کی کوشش کریں اور یہ تبدیلی آپ میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہی ہوگی اور اللہ تعالیٰ کے فضل کو جذب کرنے کے لئے سب سے پہلا کام اس کے آگے جھکنا، اس کی عبادت کرنا اس کی طرف توجہ کرنا ہے، اور یہ تعلق جوڑنے کے لئے سب سے اہم بات جو آپ نے کرنی ہے اور جس کے کرنے کی کوشش کرنی چاہیئے وہ اپنی عبادتوں کی طرف توجہ اور اپنی نمازوں کی حفاظت ہے اور اس کے بغیر ناممکن ہے کہ خدا تعالیٰ سے تعلق جوڑا جا سکے۔یہی نمازوں کی حفاظت ہے جو آپ میں اور آپ کے بیوی بچوں میں اللہ تعالیٰ سے تعلق جوڑنے کا باعث بنے گی۔یہی ہے جو آپ کو احمدیت یعنی حقیقی اسلام کی خوبیوں کو دوسروں تک پہنچانے اور اس کے بہترین پھل حاصل کرنے کا باعث بنے گی۔اور یہی چیز ہے جس سے آپ کی دنیاوی ضروریات بھی خدا تعالیٰ اپنے وعدوں کے مطابق پوری فرمائے گا۔پس اپنی نمازوں میں باقاعدگی اختیار کریں اور اس کے مقابلے پر ہر چیز کو بیچ سمجھیں ، اور یہی اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ ہر چیز سے زیادہ تمہارے دل میں میری یاد کی اہمیت ہونی چاہئے اور یہ بھی ہو سکتا ہے جب تم ہمیشہ میرے احسانوں کو یاد کرتے رہو، میرے شکر گزار بندے بنے رہو۔اور جب اس طرح شکر گزار بنو گے تو پھر سمجھا جائے گا کہ تمہاری نمازیں، تمہاری عبادتیں، میری رضا حاصل کرنے کے لئے ہیں۔اپنی عبادت کا حکم دیتے ہوئے قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ إِنَّنِی اَنَا اللهُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنَا فَاعْبُدْنِي۔وَاَقِمِ الصَّلوةَ لِذِكْرِى ( : 15) یقیناً میں ہی اللہ ہوں میرے سوا کوئی معبود نہیں۔پس میری عبادت کر اور میرے ذکر کے لئے نماز کو قائم کر۔kh5-030425