خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 230
خطبات مسرور جلد چہارم 230 خطبہ جمعہ 05 رمئی 2006ء عیسائی، ایک آریہ، ایک چوہڑا بھی اس وقت پکار اٹھتا ہے کہ الہی ہمیں بچائیو۔اگر مومن بھی ایسا کرے تو پھر اس میں اور غیروں میں فرق کیا ہوا۔مومن کی شان تو یہ ہے کہ وہ عذاب آنے سے قبل خدا تعالیٰ کے کلام پر ایمان لاکر خدا تعالیٰ کے حضور گڑ گڑائے۔فرمایا کہ: ” اس نکتہ کو خوب یاد رکھو کہ مومن وہی ہے جو عذاب آنے سے پہلے کلام الہی پر یقین کر کے عذاب کو وارد سمجھے اور اپنے بچاؤ کیلئے دعا کرے۔دیکھو ایک آدمی جو تو بہ کرتا ہے، دعا میں لگا رہتا ہے تو وہ صرف اپنے پر نہیں بلکہ اپنے بال بچوں پر ، اپنے قریبیوں پر رحم کرتا ہے کہ وہ سب ایک کیلئے بچائے جاسکتے ہیں۔اگر نیک آدمی ہو تو اللہ تعالیٰ اس جگہ سے عذاب کو ٹال دیتا ہے اور اسکی وجہ سے پھر ساروں کا فائدہ ہو جاتا ہے۔تو ایسا ہی جو غفلت کرتا ہے تو نہ صرف اپنے لئے برا کرتا ہے بلکہ اپنے تمام کنبے کا بدخواہ ہے۔فرمایا کہ: ایک انسان جو دعا نہیں کرتا اس میں اور چار پائے میں کچھ فرق نہیں۔یعنی اس میں اور جانوروں میں کوئی فرق نہیں ہے۔ایسے لوگوں کی نسبت خدا تعالیٰ فرماتا ہے ﴿يَأْكُلُوْنَ كَمَا تَأْكُلُ الانْعَامُ وَ النَّارُ مَثْوَى لَّهُمْ ﴾ (سورة محمد :13: یعنی چارپایوں (جانوروں) کی زندگی بسر کرتے ہیں اور جہنم ان کا ٹھکانا ہے۔پس تمہاری بیعت کا اقرار اگر زبان تک محدود رہا تو یہ بیعت کچھ فائدہ نہ پہنچائے گی۔چاہئے کہ تمہارے اعمال تمہارے احمدی ہونے پر گواہی دیں۔میں ہرگز یہ بات نہیں مان سکتا کہ خدا تعالی کا عذاب اس شخص پر وارد ہو جس کا معاملہ خدا تعالیٰ سے صاف ہو۔خدا تعالیٰ اسے ذلیل نہیں کرتا جو اس کی راہ میں ذلت اور عاجزی اختیار کرے۔یہ سچی اور صحیح بات ہے۔راتوں کو اٹھ اٹھ کر دعائیں مانگو۔کوٹھڑی کے دروازے بند کر کے تنہائی میں دعا کرو کہ تم پر رحم کیا جائے۔اپنا معاملہ صاف رکھو کہ خدا کا فضل تمہارے شامل حال ہو۔جو کام کر و نفسانی غرض سے الگ ہو کر کرو تا خدا تعالیٰ کے حضور اجر پاؤ“۔( ملفوظات جلد پنجم صفحہ 272-271 جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ ) اللہ تعالیٰ سب کو توفیق دے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خواہش کے مطابق اپنی زندگیوں کو ڈھالتے ہوئے اسلامی تعلیم کا صحیح نمونہ بن جائیں اور اللہ کا قرب پانے والے ہوں اور اپنے بیوی بچوں کو بھی اس پاک چشمہ سے سیراب کرنے والے ہوں۔اور یہ جلسے کے دن حقیقت میں سب میں پاک تبدیلی پیدا کرنے کا ذریعہ بن جائیں۔اور آپ میں ان پاک تبدیلیوں کی وجہ سے اس ملک میں مقامی لوگوں میں بھی اسلام کا خوبصورت پیغام جلد سے جلد پھیل جائے۔جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہا ہے کہ ان دو دنوں کو خاص طور پر دعاؤں اور ذکر الہی میں گزاریں۔اللہ تعالیٰ آپ کو تو فیق عطا فرمائے۔kh5-030425