خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 229
229 خطبہ جمعہ 05 رمئی 2006 ء خطبات مسرور جلد چهارم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہمیں کیا دیکھنا چاہتے ہیں۔اس بارے میں آپ کا اقتباس پڑھتا ہوں۔فرماتے ہیں کہ : ” حدیث میں آیا ہے کہ اَلتَّائِبُ مِنَ الذَّنْبِ كَمَنْ لَّا ذَنْبَ لَهُ - اب جو تم لوگوں نے بیعت کی تو اب خدا تعالیٰ سے نیا حساب شروع ہوا ہے۔کہ گنا ہوں سے تو بہ کر لی ہے، اسی طرح ہو گیا جس طرح کوئی گناہ نہیں کیا۔تو اب نیا حساب شروع ہو گا۔پہلے گناہ صدق و اخلاص کے ساتھ بیعت کرنے پر بخشے جاتے ہیں۔اب ہر ایک کا اختیار ہے کہ اپنے لئے بہشت بنا لے یا جہنم۔انسان پر دو قسم کے حقوق ہیں۔ایک تو اللہ کے اور دوسرے عباد کے۔پہلے میں تو اسی وقت نقصان ہوتا ہے جب دیدہ دانستہ کسی امر اللہ کی مخالفت قولی یا عملی کی جائے۔آدمی کسی بھی صورت میں خدا تعالیٰ کے حکم کے مخالف چلے۔مگر دوسرے حقوق کی نسبت بہت کچھ بیچ بیچ کے رہنے کا مقام ہے۔کئی چھوٹے چھوٹے گناہ ہیں جنہیں انسان بعض اوقات سمجھتا بھی نہیں۔ہماری جماعت کو تو ایسا نمونہ دکھانا چاہئے کہ دشمن پکار اٹھیں کہ گو یہ ہمارے مخالف ہیں مگر ہیں ہم سے اچھے۔اپنی عملی حالت کو ایسا درست رکھو کہ دشمن بھی تمہاری نیکی ، خدا ترسی اور اتقاء کے قائل ہو جائیں۔تمہارے عمل ایسے ہو جائیں کہ دشمن بھی یہ کہے کہ یہ نیک آدمی ہے اور تقویٰ پر چلنے والا ہے۔فرمایا کہ: ”یہ بھی یاد رکھو کہ خدا تعالیٰ کی نظر جذ ر قلب تک پہنچتی ہے پس وہ زبانی باتوں سے خوش نہیں ہوتا۔اللہ تعالیٰ دل کو اچھی طرح جانتا ہے۔زبان سے کلمہ پڑھنا یا استغفار کرنا انسان کو کیا فائدہ پہنچا سکتا ہے جب وہ دل و جان سے کلمہ یا استغفار نہ پڑھے۔بعض لوگ زبان سے اَسْتَغْفِرُ اللہ کرتے جاتے ہیں مگر نہیں سمجھتے کہ اس سے کیا مراد ہے۔مطلب تو یہ ہے کہ پچھلے گناہوں کی معافی خلوص دل سے چاہی جائے اور آئندہ کے لئے گناہوں سے باز رہنے کا عہد باندھا جائے۔اور ساتھ ہی اس کے فضل و امداد کی درخواست کی جائے۔اگر اس حقیقت کے ساتھ استغفار نہیں ہے تو وہ استغفار کسی کام کا نہیں۔انسان کی خوبی اسی میں ہے کہ وہ عذاب آنے سے پہلے اس کے حضور میں جھک جائے اور اس کا امن مانگتا رہے۔عذاب آنے پر گڑ گڑانا اور وَقِنَا وَقِنَا پکارنا تو سب قوموں میں یکساں ہے۔“ اب یہ علاقے بھی ایسے ہیں کہ یہاں مختلف وقتوں میں زلزلوں کا خطرہ رہتا ہے۔سونامی کا خطرہ رہتا ہے۔کل بھی ایک خطرہ پیدا ہوا تھا لیکن اللہ تعالیٰ نے اسے ٹال دیا۔تو اس شکر گزاری کے طور پر بھی مزید اس کے آگے جھکنا چاہئے۔اس کے ذکر سے زبانیں تر رکھنی چاہئیں۔اگر وہ تباہی آتی تو بہت بڑی تباہی آ سکتی تھی لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کو دور فر مایا۔تو ہمیشہ اللہ کے حضور جھکے رہنا چاہئے۔فرمایا کہ: ”ایسے وقت میں جبکہ خدا کا عذاب چاروں طرف سے محاصرہ کئے ہوئے ہو ایک kh5-030425