خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 202
خطبات مسرور جلد چهارم 202 خطبہ جمعہ 21 / اپریل 2006 ء ہوئے ایک مصتم اور پکے ارادے کے ساتھ برائیوں سے بچنے کی کوشش کریں گے تو یقینا اللہ تعالیٰ ہمیں ان ادنی خواہشات اور نفسانی خواہشات سے بچاتا ہے۔لیکن بظاہر دعا تو ہم خدا تعالیٰ سے یہ مانگ رہے ہوں گے کہ اے اللہ! مجھے میرے نفس کے کینوں سے پاک کر ، مجھے غصہ کی لعنت سے بچا۔میرے اندر سے حسد کی بیماری دور کر لیکن اس کو دور کرنے کے جو طریقے اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے بتائے ہیں ان کو ہم اختیار نہ کریں بلکہ ان برائیوں میں بڑھ رہے ہوں تو یہ دعا اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق دعا نہیں ہوگی۔اللہ تعالیٰ تو فرماتا ہے کہ اپنے غصے کو ٹھنڈا کرو اور نہ صرف ٹھنڈا کرو بلکہ دوسرے کو معاف بھی کرو۔اور نہ صرف معاف کرو بلکہ احسان کا سلوک بھی کرو۔اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم غصے میں ہو اور اگر کھڑے ہونے کی حالت میں غصہ آیا ہے تو بیٹھ جاؤ۔بیٹھے ہوئے ہو تو لیٹ جاؤ تا کہ تمہارا غصہ ٹھنڈا ہو۔منہ اور سر پر پانی کے چھینٹے ڈالو۔وضو کرو۔تو جب غصے ٹھنڈے کرنے کی کوشش کریں گے تو کینے بھی ختم ہوں گے اور حسد بھی ختم ہوگی۔جو لوگ کام کرنے والے ہیں جو لوگ دین کا علم رکھنے والے ہیں وہ اگر اپنے رویے نہیں بدلیں گے تو دوسروں کو کیا کہہ سکتے ہیں۔کام کرنے والوں سے میری مراد جماعتی خدمات کرنے والے ہیں۔دوسروں کو کیا کہیں گے۔کس طرح کہہ سکتے ہیں کہ اپنے نفس کو شیطان سے محفوظ رکھو۔اللہ تعالیٰ تو فرماتا ہے کہ جو کام تم نہیں کرتے اس کے بارے میں دوسرے کو بھی نہ کہو۔پہلے اپنے گریبان میں جھانکو پہلے اپنا محاسبہ کرو، پہلے اپنی اصلاح کرو پھر دوسروں کی اصلاح کی طرف توجہ دو۔پس ہر احمدی کو ، ہر بڑے کو، ہر عہدیدار کو، ہر ذمہ دار کو اپنی اصلاح کی طرف توجہ دینی چاہئے تبھی محبت اور بھائی چارے کی فضا قائم ہوگی۔اور تبھی جماعت کی ترقی کے سامان پہلے سے بڑھ کر پیدا ہوں گے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : یہ ضروری اور بہت ضروری ہے خصوصاً ہماری جماعت کے لئے (جس کو اللہ تعالی نمونہ کے طور پر انتخاب کرتا ہے۔آپ نمونہ بن رہے ہیں۔فرماتے ہیں کہ : ” اور وہ چاہتا ہے کہ آنے والی نسلوں کے لئے ایک نمونہ ٹھہرے اپنے آپ کو نیکی کی طرف لگائیں۔اور اپنے ہر ایک فعل اور حرکت و سکون میں نگاہ رکھے کہ وہ اس کے ذریعہ سے دوسروں کے لئے ہدایت کا نمونہ قائم کرتا ہے۔پس ہر احمدی دوسرے کے لئے ہدایت کا نمونہ قائم کرنے والا ہے۔فرمایا: ”نگاہ رکھے کہ وہ اس کے ذریعہ سے دوسروں کے لئے ہدایت کا نمونہ قائم کرتا ہے یا کہ نہیں۔اس مقصد کے حاصل کرنے کے واسطے جہاں تک تدبیر کا حق ہے، تدبیر کرنی چاہئے اور کوئی دقیقہ ( تدبیر کا) فروگزاشت نہیں کرنا چاہئے۔یعنی کسی میں کوئی کمی نہیں kh5-030425