خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 201
خطبات مسرور جلد چهارم 201 کی نسبت سزا اور ایڈا کو پسند نہیں کرتا۔مسلمان کبھی کینہ ور نہیں ہوسکتا۔خطبہ جمعہ 21 / اپریل 2006 ء فرماتے ہیں : ” ہم خود دیکھتے ہیں ان لوگوں نے ہمارے ساتھ کیا کیا ہے۔کوئی دکھ اور تکلیف جو پہنچا سکتے تھے انہوں نے پہنچایا ہے۔لیکن پھر بھی ان کی ہزاروں خطائیں بخشنے کو اب بھی تیار ہیں۔پس تم جو میرے ساتھ تعلق رکھتے ہو ، یاد رکھو کہ تم ہر شخص سے خواہ وہ کسی مذہب کا ہو، ہمدردی کرو اور بلاتمیز مذہب و قوم ہر ایک سے نیکی کرو“۔( ملفوظات جلد چہارم صفحہ 219 جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ ) تو دیکھیں یہ ہے آپ کا اسوہ ، آپ کی ہم سے توقعات کہ غیروں سے بھی ہمدردی کرو۔جب غیروں سے اس قدر سلوک کرنا ہے تو آپس میں کس قدر پیارو محبت سے رہنا چاہئے۔اللہ تعالیٰ مومن کی یہ نشانی بتا تا ہے کہ وہ لوگ جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر کامل ایمان اور مکمل یقین رکھتے ہیں ان کا آپس کا سلوک رُحَمَاءُ بَيْنَهُم ﴾ (الفتح : 30) کا مصداق ہے۔یعنی آپس میں ایک دوسرے سے بہت ملاطفت کرنے والے ہیں۔محبت اور پیار کا سلوک کرنے والے ہیں۔اس لئے اعلیٰ اخلاق کے نمونے دکھانے کے لئے اپنے معاملات میں جب تک شکوے شکائیتیں بند نہیں کریں گے ان لوگوں میں شمار نہیں ہو سکتے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہیں۔لیکن یہ تمام معیار کبھی حاصل نہیں ہو سکتے جب تک اللہ تعالیٰ سے مددنہ مانگیں کیونکہ شیطان جو برائیوں پر اکسانے والا ہے اس کا مقابلہ خدا کی مدد اور اس کے رحم کے بغیر نہیں ہو سکتا اس لئے اللہ تعالیٰ کے حضور گڑ گڑانا اور اس سے مدد مانگنا ضروری ہے۔اس کے رحم کو جذب کرنے کے لئے یہ باتیں بھی ضروری ہیں اور اس کے ساتھ پاک دل ہو کر برائیوں سے بچنے کی کوشش بھی کی جائے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : ’ یہ طوفان جو نفسانی شہوات کے غلبہ سے پیدا ہوتا ہے یہ نہایت سخت اور دیر پا طوفان ہے جو کسی طرح بجز رحم خداوندی کے دور ہو ہی نہیں سکتا۔اور جس طرح جسمانی وجود کے تمام اعضاء میں سے ہڈی نہایت سخت ہے اور اسکی عمر بھی بہت لمبی ہے اسی طرح اس طوفان کے دور کرنے والی قوت ایمانی نہایت سخت اور عمر بھی لمبی رکھتی ہے تا ایسے دشمن کا دیر تک مقابلہ کر کے پامال کر سکے اور وہ بھی خدا تعالیٰ کے رحم سے“۔ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم۔روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 206 ) پس اس رحم کو جذب کرنے کے لئے جہاں خدا تعالیٰ سے تعلق جوڑ میں وہاں کوشش کریں کہ ان برائیوں کو دور بھی کیا جائے۔جب ہم اللہ تعالیٰ سے دعا مانگتے ہوئے اس کا فضل اور رحم اور مدد طلب کرتے kh5-030425