خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 203 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 203

خطبات مسرور جلد چهارم 203 خطبہ جمعہ 21 / اپریل 2006 ء رہنی چاہئے۔یا د رکھو تقوئی اور نیکی کے حصول کے لئے تدابیر میں لگے رہنا بھی ایک مخفی عبادت ہے۔اگر نیکی اور تقویٰ چاہتے ہو تو اس کے لئے تدبیر بھی ایک مخفی عبادت ہے اس کو حقیر مت سمجھو۔( ملفوظات جلد چہارم صفحہ 201 جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ ) یہ جو تم کوششیں کرتے ہو نیکی کرنے کی یا نیک اخلاق دکھانے کی اس کو چھوٹا مت سمجھو ، تھوڑامت سمجھو اور معمولی مت سمجھو۔فرمایا: ”جب انسان اس کوشش میں لگارہتا ہے تو عادت اللہ یہی ہے کہ اس کے لئے کوئی نہ کوئی راہ کھول دی جاتی ہے جو بدیوں سے بچنے کی راہ ہے“۔( ملفوظات جلد چہارم صفحہ 201 حاشیہ نمبر 3 جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ ) فرمایا: ”میں سچ کہتا ہوں کہ جب انسان نفس امارہ کے پنجے میں گرفتار ہونے کے باوجود بھی تدبیروں میں لگا ہوا ہوتا ہے تو اس کا نفس امارہ خدا تعالیٰ کے نزدیک تو امہ ہو جاتا ہے۔اور ایسی قابل قدر تبدیلی پالیتا ہے کہ یا تو وہ امارہ تھا جو لعنت کے قابل تھا یا اب جس کو یہ شرف حاصل ہے کہ خدا تعالیٰ بھی اس کی قسم کھاتا ہے“۔( ملفوظات جلد چہارم صفحہ نمبر 202 جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ ) نفس امارہ اور اقامہ کیا ہیں؟ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ امارہ کی حالت میں انسان جذبات اور بے جا جوشوں کو سنبھال نہیں سکتا۔جذبات پھر بے قابو ہو جاتے ہیں، جلدی غصے میں آ جاتا ہے اور برائیاں پیدا ہو جاتی ہیں اور اندازے سے نکل جاتا ہے اور اخلاقی حالت سے گر جاتا ہے۔شیطان کے پنجے میں گویا گرفتار ہوتا ہے اور اس کی طرف بہت جھکتا ہے۔لیکن تو امہ کی حالت میں اپنی خطا کاریوں پر نادم ہوتا ہے اور شرمسار ہو کر خدا کی طرف جھکتا ہے۔مگر اس حالت میں بھی ایک جنگ رہتی ہے کبھی شیطان کی طرف جھکتا ہے اور کبھی رحمن کی طرف۔پس اگر ہم اللہ سے رحم ما نگتے ہوئے رحمن کی طرف جھکنے کی کوشش کرتے رہیں گے تو ایک وقت ایسا آئے گا جس میں ایک نفس کی تیسری قسم بھی ہے جسے نفس مطمئنہ کہتے ہیں وہ حاصل ہوگی۔کہ جو کام بھی کرنا ہے اللہ کی رضا حاصل کرنے کیلئے کرنا ہے۔یہی ایک راہ ہے جس سے اطمینان قلب حاصل ہوتا ہے۔دل کا اطمینان حاصل ہوتا ہے۔دل کو چین اور سکون ملتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ: جس قدروہ اللہ تعالیٰ کی طرف جھکنے کے معیار کو بڑھاتا جائے گا اسی قدروہ خدا کا قرب پانے والا ہو گا۔یہ دنیا داری کی چھوٹی چھوٹی باتیں نفسانی خواہشات، نام و نمود، غصہ، حسد، جھوٹ، غرض کہ تمام kh5-030425