خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 173 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 173

173 خطبہ جمعہ 31 / مارچ 2006ء شخص خطبات مسرور جلد چهارم چنانچہ روایت میں آتا ہے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک سی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا یارسول اللہ! اللہ کی راہ میں خرچ کئے ہوئے کس مال کا ثواب زیادہ ملے گا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تو تندرستی کی حالت میں مال کی خواہش ہوتے ہوئے محتاجی سے ڈر کر ، مالداری کی طمع رکھ کر خرچ کرے۔اور اتنی دیر مت کر کہ جان حلق میں آن پہنچے تو اس وقت تو کہے کہ فلاں کو اتنا دینا اور فلاں کو اتنا دینا، حالانکہ اب تو وہ مال کسی اور کا ہو ہی چکا۔(صحیح بخاری کتاب الزكاة باب اى الصدقة افضل حدیث نمبر (1419 تو فرمایا کہ تندرستی کی حالت میں، انسان کی صحت اچھی ہو ، جوان ہو ، تو عاقبت کی فکر بھی کم رہتی ہے۔اگر اس عمر میں یہ خیال آ جائے صحت کی حالت میں یہ خیال آ جائے تو پھر مال کی وجہ سے بہت سی ایسی لغویات ہیں جن میں انسان مبتلا ہو جاتا ہے ، ملوث ہوسکتا ہے ان سے بچ جاتا ہے۔پھر مال کی خواہش ہر انسان میں ہوتی ہے۔آج کل کے زمانے میں مادیت کا بہت زیادہ دور دورہ ہے اور بہت بڑھ کر یہ خواہش ہے۔اس حالت میں اس زمانے میں جب اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں تو یقیناً یہ بہت بڑی قربانی ہے۔اللہ کا فضل ہے کہ جماعت میں بہت سے لوگ مال کی خواہش رکھنے کے باوجود قربانیاں کرتے ہیں۔پھر اس وقت خرچ کرنا جب محتاجی کا بھی ڈر ہو۔یہ بھی اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ جماعت میں ایسی بہت مثالیں ہیں جب کسی بات کی بھی پرواہ کئے بغیر لوگ قربانیاں کر رہے ہوتے ہیں۔ابھی چند دن ہوئے جرمنی کے ایک نوجوان کے بارے میں مجھے پتہ چلا کہ وہ مقروض بھی تھا، شادی بھی ہونے والی تھی۔ایک معمولی رقم اس نے شادی کے لئے جمع کی ہوئی تھی لیکن جب وہاں جو تحریک ہے سو (100) مساجد کی اس کے لئے چندے کی تحریک کی گئی تو وہ تمام جمع پونچھی جو اس نے شادی کے لئے جوڑی تھی لا کے پیش کر دی۔پس یہ نمونے جہاں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے وعدوں کے پورا ہونے کے نظارے ہمیں دکھاتے ہیں، وہاں اُن ست لوگوں کو بھی توجہ کرنی چاہئے ، ان کو بھی توجہ دلانے والے بننے چاہئیں جو حیلوں بہانوں سے چندوں میں کمی کی درخواستیں کرتے ہیں۔تو ایسے لوگوں کے بارے میں فرمایا کہ وہ مالدار ہونے کی طمع رکھتے ہیں ایک ہی خواہش ہوتی ہے کہ کسی طرح پیسہ اکٹھا ہو جائے۔یہ چند لوگ اُن برکتوں میں نہ شامل ہو کر جو اس قربانی کی وجہ سے ملنی ہے اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنے والے ہوتے ہیں۔اللہ سب احمدیوں کو عقل دے اور اس بخل سے محفوظ رکھے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کس طرح اپنے صحابہ کو مالی قربانیوں کی ترغیب دلائی اور کس طرح kh5-030425