خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 174 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 174

خطبات مسرور جلد چهارم 174 خطبہ جمعہ 31 / مارچ 2006 ء دلایا کرتے تھے اس بارے میں روایت میں یوں ذکر ملتا ہے۔حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دفعہ اپنی نسبتی ہمشیرہ حضرت اسماء بنت ابوبکر کو نصیحت فرمائی کہ اللہ کی راہ میں گن گن کر خرچ نہ کیا کرو ورنہ اللہ تعالیٰ بھی تم کو گن گن کر ہی دے گا۔اپنی تفصیلی کا منہ بند کر کے ( یعنی کنجوسی سے ) نہ بیٹھ جاناور نہ پھر اس کا منہ بند ہی رکھا جائے گا۔یعنی نہ تو پیسہ آئے گا اور نہ نکلنے کی نوبت آئے گی۔جتنی طاقت ہو، استعداد ہوا تنا خرچ کرنا چاہئے۔(بخاری کتاب الزكواة باب التحريص على الصدقة حديث نمبر 1433 و باب الصدقة فيما استطاع حدیث نمبر (1434 پس بعض لوگ جو سمجھتے ہیں کہ چندے ہمارے لئے بوجھ ہیں ان کو ہمیشہ یہ نصیحت یا درکھنی چاہئے۔پھر ایک روایت میں آتا ہے حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن حساب کتاب ختم ہونے تک انفاق فی سبیل اللہ کرنے والا اللہ کی راہ میں خرچ کئے ہوئے اپنے مال کے سائے میں رہے گا۔(مسند احمد بن حنبل مسند عقبه بن عامر جلد 5 صفحه 895 ایڈیشن (1998 پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم یہ حدیث قدسی بھی سنایا کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے ابن آدم ! خرچ کرتارہ ہمیں تجھے عطا کروں گا۔آج اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایسی کئی مثالیں بکھری پڑی ہیں۔(ایک میں نے مثال پہلے بھی دی تھی ) جن میں اللہ تعالیٰ کی ان نوازشوں کے ذکر ملتے ہیں، اس کے نظارے نظر آتے ہیں ، اور یہ نظارے نظر آتے ہی ہیں تو لوگوں میں اتنی جرات اور ہمت پیدا ہوتی ہے کہ وہ نہ ہوتے ہوئے بھی اپنے مال خرچ کر دیتے ہیں۔اللہ تعالیٰ جماعت کو اس طرح قربانی کرنے والے ہمیشہ عطا فرما تار ہے اور ان پر اپنے فضلوں ہمیشہ عطافرما تار کی بارش بھی برساتا رہے۔چندوں کے بارہ میں بعض جماعتوں کے بعض استغفار ہوتے ہیں جو بعض لوگوں کی طرف سے ہوتے ہیں جن کے بارے میں سمجھتا ہوں کہ وضاحت کر دوں۔ایک تو یہ کہ آج کل وصیت کی طرف بہت توجہ ہے۔اور وصیت کی طرف توجہ تو ہوگئی ہے لیکن تربیت کی کافی کمی ہے۔اس لئے بعض موصیان یہ سمجھتے ہیں کہ کیونکہ ہم نے وصیت کی ہوئی ہے اس لئے ہم صرف وصیت کا چندہ دیں گے باقی ذیلی تنظیموں کے چندے یا مختلف تحریکات کے چندے ہم پر لاگو نہیں ہوتے۔تو یہ واضح ہو، جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہا ہے کہ اگر تو حالات ایسے ہوں کہ تمام چندے نہ دے سکتے ہوں تو اس کی اجازت لے لیں۔ورنہ توقع ایک موصی سے یہ کی جاتی ہے کہ ایک موصی کا معیار قربانی دوسروں کی نسبت، غیر موصی کی نسبت زیادہ ہونا چاہئے۔تو اگر وصیت کا صرف کم سے کم 1/10 حصہ سے دے کر باقی چندے نہیں دے رہے تو ہو سکتا ہے۔kh5-030425