خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 172 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 172

خطبات مسرور جلد چهارم 172 خطبہ جمعہ 31 / مارچ 2006 ء آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں غریب اپنی طاقت کے لحاظ سے خرچ کرتا تھا اور امیر اپنی وسعت کے لحاظ سے خرچ کرتا تھا۔غریب صحابہ بھی بے چین رہتے تھے کہ کاش ہمارے پاس بھی مال ہو تو ہم بھی خرچ کریں۔جب جہاد کے لئے جانے کے لئے ، باوجود ان کی خواہش کے مالی تنگی اور سامان کی کمی کی وجہ سے ان کو پیچھے رہنا پڑتا تھا تو ان کی آنکھیں آنسو بہاتی تھیں اور ان کے دل بے چین ہوتے تھے۔اور یہ اتنی سچی بے چینی تھی کہ اللہ تعالیٰ نے جو دلوں کا حال جاننے والا ہے اس نے بھی یہ گواہی دی کہ یہ بے چین دل اور آنسو بہاتی آنکھیں بناوٹ نہیں تھیں بلکہ حقیقت میں ان کی یہ کیفیت ہوتی تھی۔اللہ کرے کہ آج ہماری قربانیوں کی تڑپ بھی اسی طرح سچی تڑپ ہو جس طرح پہلوں کی تھی۔اور اللہ تعالیٰ ہمیں ان کے ساتھ ملاتے ہوئے پاک نمونے قائم کرنے کی توفیق دے۔ہمیں اس آیت کے مطابق اس بات کا ادراک عطا فرمائے اور عمل کرنے کی توفیق دے جس کی میں نے تلاوت کی ہے۔اس کا ترجمہ یہ ہے اللہ کی راہ میں خرچ کرو اور اپنے ہاتھوں اپنے تئیں ہلاکت میں نہ ڈالو اور احسان کرو۔یقیناً اللہ احسان کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔آج جب اسلام کے خلاف ہر طرف سے حملے ہورہے ہیں اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت کو اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی رہنمائی میں دلائل قاطعہ کے ذریعہ سے جواب دینے کے لئے کھڑا کیا ہے اور جس کی تیاری کے لئے جیسا کہ میں نے کہا کہ مالی قربانی کی ضرورت ہے، ہمیں اپنی ذمہ داریوں کو سمجھتے ہوئے مالی قربانیوں کی طرف توجہ دینے کی بہت زیادہ ضرورت ہے۔ورنہ اللہ تعالیٰ نے جیسا کہ فرمایا ہے کہ اگر ہم مالی قربانیوں کی طرف توجہ نہیں کریں گے تو اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنے والے ہوں گے۔اپنے آپ کو دین کی خدمت سے محروم کر رہے ہوں گے۔اور دین کی خدمت سے محروم ہونے کا مطلب ہی اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنا ہے۔پس جو چندے کے معاملے میں ستیاں دکھانے والے ہیں وہ اپنے جائزے لیں اور جو جماعتی عہد یدار نئے شامل ہونے والوں کو اس کی اہمیت سے آگاہ نہیں کرتے وہ بھی ذمہ دار ہیں۔پس جہاں دین کی نصرت کے لئے آسمان پر شور ہے وہاں ہمیں اپنی ذمہ داریوں کی طرف بھی بہت زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ان ذمہ داریوں کو بھی ہمیں نبھانا ہوگا۔اور ہم ہلاکت سے اس صورت میں بیچ سکتے ہیں جب أحْسِنُوا پر عمل کرتے ہوئے اپنے فرائض عمدگی سے ادا کرنے والے ہوں اور اس کے نتیجہ میں خدا کی رضا حاصل کرنے والے ہوں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لئے مال خرچ کرنے کے طریقوں اور یہ کہ کون سا مال خرچ کرنا چاہئے اس کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کرتے تھے۔kh5-030425