خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 171 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 171

خطبات مسرور جلد چهارم 171 خطبہ جمعہ 31 / مارچ 2006 ء يَقْبِضُ وَيَبْصُطُ وَإِلَيْهِ تُرْجَعُونَ ﴾ (البقرة : 246) کہ کون ہے جو اللہ کو قرضہ حسنہ دے تا کہ وہ اس کے لئے اس کو کئی گنا بڑھائے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : اللہ تعالیٰ جو قرض مانگتا ہے تو اس سے یہ مراد نہیں ہوتی ہے کہ معاذ اللہ، اللہ تعالیٰ کو حاجت ہے اور وہ محتاج ہے۔ایسا وہم کرنا بھی کفر ہے۔بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ جزا کے ساتھ واپس کروں گا۔یہ ایک طریق ہے اللہ تعالیٰ جس سے فضل کرنا چاہتا ہے“۔( بحوالہ تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سورۃ البقرہ آیت 246 الحکم جلد 6 نمبر 17 مؤرخہ 10 مئی 1902 صفحہ 7) پس وہ لوگ جو مالی کشائش کے بعد دل میں کنجوسی محسوس کرتے ہیں ان کو یاد رکھنا چاہئے کہ سب چندے اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو سمیٹنے کا ذریعہ ہیں۔پس اگر اللہ تعالیٰ کی خاطر اپنے مال کا سولہواں حصہ دے رہے ہیں تو یہ ان دینے والوں کے فائدہ کے لئے ہے۔اللہ تعالیٰ دوسری جگہ فرماتا ہے کہ میں تمہارے مالوں کو سات سو گنا یا اس سے بھی زیادہ بڑھا کر واپس دیتا ہوں۔پس یہ اللہ تعالیٰ کو جو اپنے مال کا اچھا ٹکڑا کاٹ کر دے رہے ہو یہ تمہارے اپنے ہی فائدے کے لئے ہے۔اس میں ایک مومن کو یہ بھی ہدایت ہے، یہ بھی فرما دیا کہ مال ہمیشہ جائز ذریعے سے کماؤ کیونکہ اللہ تعالیٰ کو اچھا مال سبھی پیش کر سکتے ہو جب جائز ذریعہ سے کمایا ہو۔اللہ تعالی کو نا جائز منافع سے کمایا ہوا مال بھی پسند نہیں ہے۔اللہ تعالیٰ کو سود سے کمایا ہوا مال بھی پسند نہیں ہے بلکہ سختی سے اس کی مناہی ہے۔رشوت کا پیسہ بھی اللہ تعالیٰ کی ناراضگی لینے والا ہے۔پس جب چندہ دینے والا ان سب باتوں کو مدنظر رکھے تو پھر اس کا روپیہ، اس کی آمد، اس کی کمائی خود بخود پاک ہو جائے گی۔یہ مالی قربانی اس کے لئے تزکیہ نفس کا موجب بن جائے گی۔اور اس طرح وہ اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے والا بن جائے گا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کے لئے جو دعائیں کی ہیں ان کا بھی وارث بن رہا ہوگا۔جیسا کہ میں نے کہا تھا کہ یہ زمانہ جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا زمانہ ہے اس میں ایک جہاد مالی قربانیوں کا جہاد بھی ہے کیونکہ اس کے بغیر نہ اسلام کے دفاع میں لٹریچر شائع ہو سکتا ہے ، نہ قرآن کریم کے مختلف زبانوں میں ترجمے ہو سکتے ہیں، نہ یہ ترجمے دنیا کے کونے کونے میں پہنچ سکتے ہیں۔نہ مشن کھولے جا سکتے ہیں، نہ مربیان، مبلغین تیار ہو سکتے ہیں اور نہ مربیان، مبلغین جماعتوں میں بھجوائے جا سکتے ہیں۔نہ ہی مساجد تعمیر ہو سکتی ہیں۔نہ ہی سکولوں، کالجوں کے ذریعہ سے غریب لوگوں تک تعلیم کی سہولتیں پہنچائی جاسکتی ہیں۔نہ ہی ہسپتالوں کے ذریعہ سے دکھی انسانیت کی خدمت کی جا سکتی ہے۔پس جب تک دنیا کے تمام کناروں تک اور ہر کنارے کے ہر شخص تک اسلام کا پیغام نہیں پہنچ جاتا اور جب تک غریب کی ضرورتوں کو مکمل طور پر پورا نہیں کیا جاتا اس وقت تک یہ مالی جہاد جاری رہنا ہے۔اور اپنی اپنی گنجائش اور کشائش کے لحاظ سے ہر احمدی کا اس میں شامل ہونا فرض ہے۔kh5-030425