خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 156 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 156

خطبات مسرور جلد چهارم 156 خطبہ جمعہ 17 / مارچ 2006ء استعمال کرنا چاہئے۔تمام انسانیت کے لئے دعا کرنی چاہئے۔پھر رابطوں سے، تبلیغ سے اور اس کے بھی آج کل کے زمانے میں مختلف ذرائع ہیں ان لوگوں کو بتائیں کہ جن راستوں کی طرف تم جا رہے ہو۔تمہاری حکومتیں تمہیں لے کر جارہی ہیں یہ تباہی کے راستے ہیں۔جتنے اخراجات گولوں اور تباہی پھیلانے پر کئے جاتے ہیں اگر غریب ملکوں کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے اور صلح صفائی کی کوشش کے لئے کئے جائیں تو اگر تمہاری نیت نیک ہے اور حقیقت میں دنیا میں امن قائم کرنا چاہتے ہو جیسا کہ دعوی ہے تو اس سے آدھے اخراجات میں بھی شاید تم اپنے مقاصد حاصل کر لو۔امن کانفرنسیں ذاتی مفاد کیلئے نہ ہوں بلکہ اصلاح کے لئے اور حقیقی امن قائم کرنے کے لئے ہوں۔خدا کرے کہ ان لوگوں کو عقل آ جائے اور ان ملکوں کے عوام میں یہ احساس قائم ہو جائے کہ وہ اپنے ملکوں کے سربراہوں کو ، سیاستدانوں کو ان ظالموں سے روکیں ، باز رکھیں جو انہوں نے غیر ترقی یافتہ ملکوں سے، چھوٹے ملکوں سے روا رکھا ہوا ہے۔امن قائم کرنے کے بارے میں حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک بڑا خوبصورت نکتہ بیان فرمایا ہے۔دنیا جب تک حُبّ الوطنی اور حب الانسانیت کے گر کو نہیں سمجھے گی اور یہ دونوں جذبات ایک جگہ جمع ہو سکتے ہیں اس وقت تک امن نہیں ہو سکتا۔تو جب انسانیت کی فکر ہوگی اور صرف اپنے ملک کے مفاد نہیں ہوں گے بلکہ کل انسانیت کی فکر ہوگی تبھی امن قائم ہوگا اور اس کے لئے نیک نیت ہونا ضروری ہے۔اللہ کرے کہ ان کو اس کی توفیق ملے ورنہ جب ظلم حد سے بڑھتا ہے تو خدا تعالیٰ کی لاٹھی چلتی ہے اور آفتوں اور طوفانوں اور بلاؤں کی صورت میں پھر اپنا کام دکھاتی ہے۔اور اس زمانے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ وارننگ تمام دنیا کو دی ہوئی ہے جو بھی خدا تعالیٰ کی قائم کردہ حدود سے تجاوز کرے گا وہ اس کی پکڑ میں آئے گا۔اللہ تعالیٰ رحم فرمائے اور ہمیں یہ آفتوں کے نظارے نہ دکھائے بلکہ ہمیں وہ دن دکھائے جب تمام ملک، تمام قو میں ایک ہو کر اپنے پیدا کرنے والے خدا کی پہچان کرتے ہوئے ایک جھنڈے کے نیچے آ جائیں جو اسلام کا جھنڈا ہو اللہ ہمیں بھی توفیق دے کہ اپنے عمل اور دعا سے اس بارے میں بھر پور کوشش کرنے والے ہوں۔kh5-030425