خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 157 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 157

خطبہ جمعہ 24 / مارچ 2006 ء 157 (12) خطبات مسرور جلد چهارم نظام خلافت کے بعد نظام شوری کا ایک تقدس ہے مجلس مشاورت کی اہمیت اور نمائندگان شوری کے فرائض اور ذمہ داریاں فرمودہ مورخہ 24 / مارچ 2006ء(24 /امان 1385 ھش ) مسجد بیت الفتوح، لندن تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے درج ذیل آیت قرآنی کی تلاوت فرمائی: فَبِمَا رَحْمَةٍ مِّنَ اللهِ لِنْتَ لَهُمْ وَلَوْ كُنْتَ فَظًّا غَلِيظَ الْقَلْبِ لَانْفَضُّوا مِنْ حَوْلِكَ فَاعْفُ عَنْهُمْ وَاسْتَغْفِرْلَهُمْ وَشَاوِرْهُمْ فِي الْأَمْرِ۔فَإِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُتَوَكِّلِينَ ﴾ ( آل عمران : (160) آج سے پاکستان میں وہاں کی مجلس شوری شروع ہو رہی ہے۔ان دنوں میں اور ملکوں میں بھی سالانہ مجلس مشاورت ہورہی ہوتی ہیں، آج کل شروع ہو جاتی ہیں۔اس لئے شوری کے نمائندگان اور عہد یداران کے حوالے سے چند باتیں کہوں گا۔جیسا کہ ہم جانتے ہیں جماعت میں مجلس شوری کا ادارہ نظام جماعت اور نظام خلافت کے کاموں کی مدد کے لئے انتہائی اہم ادارہ ہے۔اور حضرت عمررؓ کا یہ قول اس سلسلہ میں بڑا اہم ہے کہ لَا خِلافَةَ إِلَّا بِالْمَشْوَرة کہ بغیر مشورے کے خلافت نہیں ہے۔اور یہ قول قرآن کریم کی ہدایت اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اُسوہ کے عین مطابق ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ سے ہر اہم کام میں مشورہ لیا کرتے تھے۔لیکن جیسا کہ آیت سے واضح ہے مشورہ لینے کا حکم تو ہے لیکن یہ حکم نہیں کہ جوا کثریت رائے کا مشورہ ہو اُسے قبول بھی کرنا ہے۔اس لئے وضاحت فرما دی کہ مشورہ کے بعد مشورہ کے مطابق یا اُسے رد کرتے ہوئے ، اقلیت کا فیصلہ مانتے ہوئے یا اکثریت کا فیصلہ مانتے ہوئے جب ایک فیصلہ کر لو ، کیونکہ بعض دفعہ kh5-030425