خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 155
خطبات مسرور جلد چهارم 155 خطبہ جمعہ 17 / مارچ 2006 ء کے واسطے نبیوں کو مامور کر کے بھیجا ہے، انبیاء علیہم السلام جب آتے ہیں تو بظاہر دنیا میں ایک فساد عظیم نظر آتا ہے۔بھائی بھائی سے باپ بیٹے سے جدا ہو جاتا ہے۔ہزاروں ہزار جانیں بھی تلف ہو جاتی ہیں۔حضرت نوح علیہ السلام کے وقت طوفان سے ان کے مخالفوں کو تباہ کر دیا گیا۔موسیٰ علیہ السلام کے وقت اور دوسرے کئی عذاب وارد ہوئے اور فرعون کے لشکر کو غرق کیا گیا۔غرض خوب یا درکھو کہ قلوب کی اصلاح اسی کا کام ہے جس نے قلوب کو پیدا کیا ہے۔نرے کلمات اور چرب زبانیں اصلاح نہیں کر سکتی ہیں۔ان کلمات کے اندر ایک روح ہونی چاہئے۔پس جس شخص نے قرآن شریف کو پڑھا اور اس نے اتنا بھی نہیں سمجھا کہ ہدایت آسمان سے آتی ہے تو اس نے کیا سمجھا؟“ ( ملفوظات جلد دوم صفحہ 344-345 جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ ) پس مسلمانوں کو غور کرنا چاہئے اور ہمیں ان کو بتانا چاہئے کہ یہ تمام احکامات اور یہ تمام خوشخبریاں اسلام کی ترقی کی قرآن کریم میں موجود ہیں اور اسلام کے ذریعہ سے ہی مقدر ہیں اور انشاء اللہ اسلام نے غالب آتا ہے یہ ہمارا ایمان ہے۔لیکن اس کے باوجود کیونکہ امام کو نہیں مان رہے، مسلمانوں کی حالت بحیثیت مجموعی (جن کے پاس طاقت ہے۔جو مسلمان ملک ہیں جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو نہیں مانا ) روز بروز خراب ہی ہوتی چلی جارہی ہے۔اس کی کیا وجہ ہے۔اس کی وجہ ظاہر ہے جیسا کہ میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں کہ زمانے کے امام کا انکار ہے اور اس انکار کی وجہ سے تقویٰ کی راہ بھی گم ہو چکی ہے۔حضرت مسیح موعود نے فرمایا کہ تقویٰ کی راہ گم ہو چکی ہے اور جب تقویٰ کی راہ گم ہو جائے تو پھر اصلاح کی کوششیں بھی اندھیرے میں ہاتھ پیر مارنے والی بات بن جاتی ہیں۔اللہ کرے کہ مسلمانوں کو عقل آجائے اور وہ اس حقیقت کو سمجھنے والے بن جائیں۔اس زمانے کے امام کو ماننے والے ہوں تا کہ تقویٰ کی راہ پر قدم مارتے ہوئے اپنے اندرونی مسائل بھی حل کرنے والے ہوں اور بیرونی حملہ آوروں سے بھی محفوظ رہ سکیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی آمد کیونکہ تمام دنیا کے لئے ہے ، صرف مسلمانوں کے لئے نہیں ہے اس لئے غیر مسلموں کے لئے بھی ہمیں دعا کرنی چاہئے۔یہ امیر ملک بھی اگر غریب ملکوں کو اقتصادی فوائد حاصل کرنے کے لئے یا اپنے مفاد کو پورا کرنے کے لئے اپنا زیرنگیں کرنا چاہتے ہیں یا کر رہے ہیں تو یہ ظلم ہے۔اور حدیث میں آیا ہے کہ ظالم کی بھی مدد کرو۔اور ظالم کی مدد اس کے ظلم کے ہاتھ کو روک کر کی جاتی ہے۔تو ہاتھ سے تو ہم روک نہیں سکتے ، دعا کا ہی ذریعہ ہے۔اور دعا کی طاقت ہمارے پاس ہے لیکن یہ دعا کا بہت بڑا ہتھیار ہے اور اس کو ہمیں استعمال کرنا چاہئے اور جہاں تک ہو سکتا ہے ہمیں kh5-030425