خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 154 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 154

خطبات مسرور جلد چهارم 154 خطبہ جمعہ 17 / مارچ 2006ء دینا ہے۔اور یہ اس خدا کی تقدیر ہے اور اس کا فیصلہ ہے جو غالب اور حکمت والا خدا ہے۔پس یہ غلبہ اور حکمت کسی کی ظاہری ہوشیاری اور چالاکی سے نہیں ملے گی بلکہ یہ تقویٰ پر قدم مارتے ہوئے ملے گی اور تقویٰ کے لئے اللہ تعالیٰ نے اس زمانے میں اپنے نمائندے کے ذریعہ سے جو احکامات دیئے ہیں، اس نمائندے کے ذریعہ سے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عشق میں فنا ہو کر خدا تعالیٰ کا قرب پانے والا بنا ہے اس کے ذریعہ سے ہی اسلام کی نشاۃ ثانیہ کا ظہور ہونا ہے۔پس اس لحاظ سے مسلمانوں کو سمجھانے اور تبلیغ کی ضرورت ہے ورنہ یہ جتنی مرضی چالا کیاں اور ہوشیاریاں دکھا دیں، طاقت کے مظاہرے کر لیں، جلسے جلوس نکال لیں، ان قوموں کے دجل کے سامنے ان کی کوئی تدبیر کارگر نہیں ہو سکتی۔اس کے لئے احمد پوں کو دعاؤں کی طرف توجہ کرنے کی بھی بہت ضرورت ہے اور امت کے لئے دعا کرنا سب دعاؤں سے افضل ہے۔کیونکہ اس وقت یہ امت بڑی مشکل میں گرفتار ہے۔پہلے ملک شام کے بارے میں یہ خبر تھی کہ اس پر سختی کے دن آنے والے ہیں لیکن بہر حال وہ بات ٹل گئی شاید انہوں نے کچھ شرائط مان لی ہوں اس لئے لیکن خطرہ بہر حال قائم ہے۔اب جیسا کہ میں نے کہا ایران کے گرد گھیرا ڈالا جا رہا ہے اور آہستہ آہستہ یہ گھیرا تنگ کیا جا رہا ہے اور یہی انہیں ملکوں پر سختیاں عالمی جنگ کا بھی باعث بن سکتی ہیں اس لئے بہت زیادہ دعاؤں کی ضرورت ہے۔ایک احمدی کی تو آخری وقت تک یہ کوشش ہونی چاہئے کہ یہ بلائیں ٹل جائیں۔اور ہمارے پاس اس کے علاوہ کوئی چیز نہیں ہے، یہی سب سے بڑا ذریعہ ہے کہ دعا کریں۔اللہ تعالیٰ نے الہاما حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو امت کے لئے دعاؤں کی طرف توجہ دلائی تھی۔ایک دعا کا ذکر میں کرتا ہوں کہ رَبِّ اَصْلِحْ أُمَّةَ مُحَمد ( تذکرہ ایڈیشن چہارم صفحہ 37 مطبوعہ ربوہ) کہ اے میرے رب! امت محمدیہ کی اصلاح کر۔پس ان کی اصلاح کے لئے بہت دعا کی ضرورت ہے اور اصلاح کا نتیجہ ایک ہی صورت میں نظر آسکتا ہے اور وہ ہے کہ وقت کے امام کو مان لینا تا کہ ان آفات سے بچ جائیں جو زمینی بھی ہیں اور آسمانی بھی۔ورنہ کوئی اصلاح کی کوشش کامیاب نہیں۔سکتی، کوئی ایسی کوشش جو امام الزمان کی تعلیم سے ہٹ کر کی جائے نہ ذاتی طور پر، نہ قومی طور پر کسی کو بچاسکتی ہے اور نہ ذاتی کوششوں سے اب تقویٰ پر کوئی قائم ہو سکتا ہے۔وو حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ: ہو یہ اصلاح تمہیں کہاں تک لے جائے گی اس سے کسی بہتری کی امید رکھنا خطرناک غلطی ہے“۔(یعنی کہ جس میں آسانی رہنمائی نہ ہو، کیاتم نہیں دیکھتے کہ خدا تعالیٰ نے یہی سنت رکھی ہے کہ اصلاح kh5-030425