خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 133
خطبات مسرور جلد چهارم 133 خطبہ جمعہ 10 / مارچ 2006 ء چند ایک کا میں ذکر کرتا ہوں۔کون نہیں جانتا کہ مکہ میں آپ کی دعویٰ نبوت کے بعد کی 13 سالہ زندگی، کتنی سخت تھی اور کتنی تکلیف دہ تھی اور آپ نے اور آپ کے صحابہ رضوان اللہ علیہم نے کتنے دکھ اور مصیبتیں برداشت کیں۔دو پہر کے وقت تپتی ہوئی گرم ریت پر لٹائے گئے ، گرم پتھر ان کے سینوں پر رکھے گئے۔کوڑوں سے مارے گئے ، عورتوں کی ٹانگیں چیر کر مارا گیا، قتل کیا گیا، شہید کیا گیا۔آپ پر مختلف قسم کے مظالم ڈھائے گئے۔سجدے کی حالت میں بعض دفعہ اونٹ کی اوجھڑی لا کر آپ کی کمر پر رکھ دی گئی جس کے وزن سے آپ اٹھ نہیں سکتے تھے۔طائف کے سفر میں بچے آپ پر پتھراؤ کرتے رہے، بیہودہ اور غلیظ زبان استعمال کرتے رہے۔ان کے سرداران کو ہلا شیری دیتے رہے، ان کو ابھارتے رہے۔آپ اتنے زخمی ہو گئے کہ سر سے پاؤں تک لہولہان ہیں، اوپر سے بہتا ہوا خون جوتی میں بھی آ گیا۔شعب ابی طالب کا واقعہ ہے۔آپ کو، آپ کے خاندان کو، آپ کے ماننے والوں کو کئی سال تک محصور کر دیا گیا۔کھانے کو کچھ نہیں تھا، پینے کو کچھ نہیں تھا۔بچے بھی بھوک پیاس سے بلک رہے تھے، کسی صحابی کو ان حالات میں اندھیرے میں زمین پر پڑی ہوئی کوئی نرم چیز پاؤں میں محسوس ہوئی تو اسی کو اٹھا کر منہ میں ڈال لیا کہ شاید کوئی کھانے کی چیز ہو۔یہ حالت تھی بھوک کی اضطراری کیفیت۔تو یہ حالات تھے۔آخر جب ان حالات سے مجبور ہو کر ہجرت کرنی پڑی اور ہجرت کر کے مدینے میں آئے تو وہاں بھی دشمن نے پیچھا نہیں چھوڑا اور حملہ آور ہوئے۔مدینہ کے رہنے والے یہودیوں کو آپ کے خلاف بھڑکانے کی کوشش کی۔ان حالات میں جن کا میں نے مختصر اذکر کیا ہے اگر جنگ کی صورت پیدا ہو اور مظلوم کو بھی جواب دینے کا موقع ملے، بدلہ لینے کا موقع ملے تو وہ یہی کوشش کرتا ہے کہ پھر اس ظلم کا بدلہ بھی ظلم سے لیا جائے۔کہتے ہیں کہ جنگ میں سب کچھ جائز ہوتا ہے۔لیکن ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حالت میں بھی نرم دلی اور رحمت کے اعلیٰ معیار قائم فرمائے۔مکہ سے آئے ہوئے ابھی کچھ عرصہ ہی گزرا تھا تمام تکلیفوں کے زخم ابھی تازہ تھے۔آپ کو اپنے ماننے والوں کی تکلیفوں کا احساس اپنی تکلیفوں سے بھی زیادہ ہوا کرتا تھا۔لیکن پھر بھی اسلامی تعلیم اور اصول وضوابط کو آپ نے نہیں توڑا۔جو اخلاقی معیار آپ کی فطرت کا حصہ تھے اور جو تعلیم کا حصہ تھے ان کو نہیں تو ڑا۔آج دیکھ لیں بعض مغربی ممالک جن سے جنگیں لڑ رہے ہیں ان سے کیا کچھ نہیں کرتے۔لیکن اس کے مقابلے میں آپ کا اُسوہ دیکھیں جس کا تاریخ میں ، ایک روایت میں یوں ذکر ملتا ہے۔جنگ بدر کے موقع پر جس جگہ اسلامی لشکر نے پڑاؤ ڈالا تھا وہ کوئی ایسی اچھی جگہ نہیں تھی۔اس پر حباب بن منذر نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ جہاں آپ نے پڑاؤ ڈالنے کی جگہ منتخب کی kh5-030425