خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 132 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 132

خطبات مسرور جلد چهارم 132 سے ہر تعصب سے پاک شخص متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔خطبہ جمعہ 10 / مارچ 2006 ء قرآن کریم میں متعدد جگہ اسلام کی اس خوبصورت تعلیم کا ذکر ملتا ہے جس میں غیر مسلموں سے حسن سلوک ، ان کے حقوق کا خیال رکھنا ، ان سے انصاف کرنا ، ان کے دین پر کسی قسم کا جبر نہ کرنا، دین کے بارے میں کوئی سختی نہ کرنا وغیرہ کے بہت سے احکامات اپنوں کے علاوہ غیر مسلموں کے لئے ہیں۔ہاں بعض حالات میں جنگوں کی بھی اجازت ہے لیکن وہ اس صورت میں جب دشمن پہل کرے، معاہدوں کو توڑے، انصاف کا خون کرے، ظلم کی انتہا کرے یا ظلم کرے لیکن اس میں بھی کسی ملک کے کسی گروہ یا جماعت کا حق نہیں ہے، بلکہ یہ حکومت کا کام ہے کہ فیصلہ کرے کہ کیا کرنا ہے، کس طرح اس ظلم کو ختم کرنا ہے نہ کہ ہر کوئی جہادی تنظیم اٹھے اور یہ کام کرنا شروع کر دے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں بھی جنگوں کے مخصوص حالات پیدا کئے گئے تھے جن سے مجبور ہوکر مسلمانوں کو جوابی جنگیں لڑنی پڑیں۔لیکن جیسا کہ میں نے کہا ہے کہ آج کل کی جہادی تنظیموں نے بغیر جائز وجوہات کے اور جائز اختیارات کے اپنے جنگجوانہ نعروں اور عمل سے غیر مذہب والوں کو یہ موقع دیا ہے اور ان میں اتنی جرات پیدا ہو گئی ہے کہ انہوں نے نہایت ڈھٹائی اور بے شرمی سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پاک ذات پر بیہودہ حملے کئے ہیں اور کرتے رہے ہیں جبکہ اس سراپا رحم اور محسن انسانیت اور عظیم محافظ حقوق انسانی کا تو یہ حال تھا کہ آپ جنگ کی حالت میں بھی کوئی ایسا موقع ہاتھ سے نہ جانے دیتے تھے جو دشمن کو سہولت نہ مہیا کرتا ہو۔آپ کی زندگی کا ہر عمل، ہر فعل، آپ کی زندگی کا پل پل اور لمحہ لمحہ اس بات کا گواہ ہے کہ آپ مجسم رحم تھے اور آپ کے سینے میں وہ دل دھڑک رہا تھا کہ جس سے بڑھ کر کوئی دل رحم کے وہ اعلیٰ معیار اور تقاضے پورے نہیں کر سکتا جو آپ نے کئے ، امن میں بھی اور جنگ میں بھی ، گھر میں بھی اور باہر بھی ، روز مرہ کے معمولات میں بھی اور دوسرے مذاہب والوں سے کئے گئے معاہدات میں بھی۔آپ نے آزادی ضمیر ، مذہب اور رواداری کے معیار قائم کرنے کی مثالیں قائم کر دیں۔اور پھر جب عظیم فاتح کی حیثیت سے مکہ میں داخل ہوئے تو جہاں مفتوح قوم سے معافی اور رحم کا سلوک کیا ، وہاں مذہب کی آزادی کا بھی پورا حق دیا اور قرآن کریم کے اس حکم کی اعلیٰ مثال قائم کر دی کہ لا إِكْرَاهَ فِي الدِّيْنِ ﴾ (البقره:257) کہ مذہب تمہارے دل کا معاملہ ہے، میری خواہش تو ہے کہ تم سچے مذہب کو مان لو اور اپنی دنیا و عاقبت سنوار لو، اپنی بخشش کے سامان کر لو، لیکن کوئی جبر نہیں۔آپ کی زندگی رواداری اور آزادی مذہب و ضمیر کی ایسی بے شمار روشن مثالوں سے بھری پڑی ہے۔ان میں۔ނ kh5-030425