خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 134
خطبات مسرور جلد چهارم 134 خطبہ جمعہ 10 / مارچ 2006ء ہے آیا یہ کسی خدائی الہام کے ماتحت ہے۔آپ کو اللہ تعالیٰ نے بتایا ہے؟ یا یہ جگہ آپ نے خود پسند کی ہے، آپ کا خیال ہے کہ فوجی تدبیر کے طور پر یہ جگہ اچھی ہے۔تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ تو محض جنگی حکمت عملی کے باعث میرا خیال تھا کہ یہ جگہ بہتر ہے، اونچی جگہ ہے تو انہوں نے عرض کی کہ یہ مناسب جگہ نہیں ہے۔آپ لوگوں کو لے کر چلیں اور پانی کے چشمے پر قبضہ کر لیں۔وہاں ایک حوض بنا لیں گے اور پھر جنگ کریں گے۔اس صورت میں ہم تو پانی پی سکیں گے لیکن دشمن کو پانی پینے کے لئے نہیں ملے گا۔تو آپ نے فرمایا ٹھیک ہے چلو تمہاری رائے مان لیتے ہیں۔چنانچہ صحابہ چل پڑے اور وہاں پڑاؤ ڈالا۔تھوڑی دیر کے بعد قریش کے چند لوگ پانی پینے اس حوض پر آئے تو صحابہ نے روکنے کی کوشش کی تو آپ نے فرمایا: نہیں ان کو پانی لے لینے دو۔(السيرة النبوية لابن هشام ذكر رؤيا عاتكه بنت عبد الله۔۔۔۔۔صفحه 424 دار الكتب العلمية الطبعة الاولى تو یہ ہے اعلیٰ معیار آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کا کہ باوجود اس کے کہ دشمن نے کچھ عرصہ پہلے مسلمانوں کے بچوں تک کا دانہ پانی بند کیا ہوا تھا۔لیکن آپ نے اس سے صرف نظر کرتے ہوئے دشمن کی فوج کے سپاہیوں کو جو پانی کے تالاب، چشمے تک پانی لینے کے لئے آئے تھے اور جس پر آپ کا تصرف تھا، آپ کے قبضے میں تھا، انہیں پانی لینے سے نہ روکا۔کیونکہ یہ اخلاقی ضابطوں سے گری ہوئی حرکت تھی۔اسلام پر سب سے بڑا اعتراض یہی کیا جاتا ہے کہ تلوار کے زور سے پھیلایا گیا۔یہ لوگ جو پانی لینے آئے تھے ان سے زبر دستی بھی کی جاسکتی تھی کہ پانی لینا ہے تو ہماری شرطیں مان لینا۔کفار کئی جنگوں میں اس طرح کرتے رہے ہیں۔لیکن نہیں ، آپ نے اس طرح نہیں فرمایا۔یہاں کہا جاسکتا ہے کہ ابھی مسلمانوں میں پوری طاقت نہیں تھی، کمزوری تھی، اس لئے شاید جنگ سے بچنے کیلئے یہ احسان کی کوشش کی ہے۔حالانکہ یہ غلط بات ہے۔مسلمانوں کے بچے بچے کو یہ پتہ تھا کہ کفار مکہ مسلمانوں کے خون کے پیاسے ہیں اور مسلمان کی شکل دیکھتے ہی ان کی آنکھوں میں خون اتر آتا ہے۔اس لئے یہ خوش فہمی کسی کو نہیں تھی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو تو اس قسم کی خوش فہمی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔آپ نے تو یہ سب کچھ، یہ شفقت کا سلوک سراپا رحمت ہونے اور انسانی قدروں کی پاسداری کی وجہ سے کیا تھا۔کیونکہ آپ نے ہی ان قدروں کی پہچان کی تعلیم دینی تھی۔پھر اس دشمن اسلام کا واقعہ دیکھیں جس کے قتل کا حکم جاری ہو چکا تھا۔لیکن آپ نے نہ صرف اسے معاف فرمایا بلکہ مسلمانوں میں رہتے ہوئے اسے اپنے مذہب پر قائم رہنے کی اجازت آپ نے عطا فرمائی۔چنانچہ اس واقعہ کا ذکر یوں ملتا ہے کہ: ابو جہل کا بیٹا عکرمہ اپنے باپ کی طرح عمر بھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جنگیں کرتا رہا۔فتح مکہ kh5-030425