خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 757
خطبات مسرور جلد سوم 757 خطبہ جمعہ 30 دسمبر 2005ء بھائی بھائی کو معاف کرے اور صلح پیدا کرنے کی طرف بھی کوشش ہونی چاہئے۔صرف کوشش ہی نہیں بلکہ آگے بڑھ کر صلح کرنی چاہئے۔میاں بیوی کو ایک دوسرے کے حقوق ادا کرنے کی طرف توجہ ہونی چاہئے۔رشتہ داروں کو رشتہ داروں کے قصور معاف کرنے کی طرف توجہ ہونی چاہئے۔ہر احمدی ، ہر دوسرے احمدی بلکہ ہر انسان کے ساتھ ہمدردی اور احسان کا سلوک کرنے والا ہونا چاہئے۔اور اس طرف توجہ کریں تبھی شکر گزار بندوں میں شمار ہو سکتے ہیں۔یہ شکر کے جذبات اپنے اندر پیدا کریں گے تبھی جلسے کے فیض سے فیضیاب ہونے والے بھی کہلائیں گے۔اور مز ید اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو سمیٹنے والے بھی ہوں گے۔اور یہی چیز زبان حال سے وَاَمَّا بِنِعْمَتِ رَبِّكَ فَحَدِتْ کا آپ کو مصداق بنارہی ہوگی۔اور ہم اللہ تعالیٰ کے اس اعلان سے حصہ پارہے ہوں گے کہ لَئِنْ شَكَرْتُمْ لَا زِيدَنَّكُمْ (ابراهيم : 8) کہ اگر تم شکر کرو گے تو میں ضرور تمہیں بڑھاؤں گا۔پس شکر گزاری کے جذبات سے تمام نیکیوں کو اپنی زندگی کا حصہ بنالیں تاکہ آپ کو بھی اور آپ کی نسلوں کو بھی مزید نیکیوں کی توفیق ملتی چلی جائے۔صرف اس بات پر فخر نہ ہو کہ جلسہ کامیاب ہو گیا ہے بلکہ یہ سوچ رکھیں کہ آپ کی زندگی کے لئے جلسہ تب کامیاب ٹھہرے گا کہ جب آپ اُن نیکیوں کو جن کی آپ کو تلقین کی گئی ہے اور آپ نے سنی ہیں، ان کو اپنی زندگی کا حصہ بنالیں۔اس بات کی خوشی منائیں کہ یہ باتیں سن کر آپ کو اللہ تعالیٰ نے اپنی زندگی میں پاک تبدیلی پیدا کرنے کی توفیق عطا فرمائی۔اس طرف خود بھی توجہ پیدا ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے توفیق بھی عطا فرمائی۔اللہ تعالیٰ کے فضلوں کا نزول ہوا ہے۔پس اس جذبے کے ساتھ اپنی شکر گزاری کے جذبات کو بڑھاتے چلے جائیں۔جیسا کہ میں نے کہا تھا کہ تمبر 1905ء میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو یہ الہام ہوا تھا کہ وَاَمَّا بِنِعْمَتِ رَبِّكَ فَحَدِتْ اس لحاظ سے اس سال کے اس آخری جمعہ کو اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا ذکر کرتے ہوئے تشکر سے پُر جذبات کے ساتھ دعاؤں کا دن بنالیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجیں کہ جمعہ کے دن کے دوران در و د خاص اہمیت رکھتا ہے اور پھر یہ شکر اور یہ درود ہمیشہ آپ سب کی زندگیوں کا حصہ بن جائے اور پھر اس شکر کے مضمون کے ساتھ نئے سال کا آغاز ہو۔اللہ تعالیٰ کی ان نعمتوں کا شکر ادا کریں جو گزشتہ سال عطا ہوئی تھیں