خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 756
خطبات مسرور جلد سوم 756 خطبہ جمعہ 30 دسمبر 2005ء اتنی تعداد میں لوگوں کو یہاں اکٹھا کیا اور بڑے آرام سے ان کے انتظامات کرنے کا موقع بھی مہیا فرمایا، تو فیق بھی عطا فرمائی۔ان سب کی رہائش اور کھانے کا انتظام بھی احسن رنگ میں پورا ہوا۔تمام کارکنان نے بڑے احسن رنگ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مہمانوں کی ڈیوٹیاں دیں اور دے رہے ہیں۔اللہ تعالیٰ ان سب کو جزا دے۔مہمانوں کو بھی ان کا شکر گزار ہونا چاہئے۔کارکنان خود بھی اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو توفیق دی کہ کافی بڑے رش کے، جلسے کے دن تھے خیریت سے گزر گئے اور وہ اس قابل رہے کہ آسانی سے ڈیوٹیاں دے سکیں۔اللہ تعالیٰ نے انہیں توفیق دی کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مہمانوں کی خدمت کر سکیں۔غرض کہ ہر جگہ ہر موقع پر ہمیں اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت اور اس کے فضل کے نظارے نظر آتے ہیں اور ہمیں اس کا شکر گزار ہونا چاہئے۔آج ہم سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کا ادراک رکھنے والے ہیں ﴿وَإِنْ تَعُدُّوا نِعْمَتَ اللهِ لَا تُحْصُوهَا ﴾ (ابراہیم: 34) اور اگر تم اللہ تعالیٰ کی نعمت کو شمار کرنا چاہو تو اس کو احاطہ میں نہ لا سکو گے۔انہیں شمار کرنا تو ممکن نہیں لیکن اللہ تعالیٰ کا شکر گزار بندہ تو ہم بن سکتے ہیں۔ہر موقع پر اللہ تعالیٰ کے اس حکم کے ماتحت کہ اس کی جو نعمتیں نازل ہوتی ہیں ان کا ذکر کر کے مزید شکرگزار بندہ بنے کی ہم کوشش تو کر سکتے ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ وَأَمَّا بِنِعْمَتِ رَبِّكَ فَحَدِتْ الضُّحَى :12) اور جہاں تک تیرے رب کی نعمت کا تعلق ہے تو اسے بکثرت بیان کیا کر۔1905ء میں اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بھی الہاماً یہ فرمایا تھا۔که وَأَمَّا بِنِعْمَتِ رَبِّكَ فَحَدِتْ پس یہ احمدی کا کام ہے کہ اللہ تعالیٰ کی جو بے شمار نعمتیں نازل ہو رہی ہیں ان کا شکریہ ادا کرتا چلا جائے اور جیسا کہ شکر گزاری کے جذبات کے ساتھ نیک اعمال بھی ہونے چاہئیں ، عبادتوں کے علاوہ حقوق العباد کی ادائیگی کی بھی کوشش ہونی چاہئے۔یہ بھی ہر احمدی کا فرض ہے کہ ایسا کرے۔یہ جلسہ ہر ایک احمدی کے آپس کے تعلقات میں مضبوطی پیدا کرنے والا بھی ہونا چاہئے۔