خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 720 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 720

خطبات مسرور جلد سوم 720 خطبہ جمعہ 16 / دسمبر 2005ء ہوئے اور فضل فرماتے ہوئے ایک انعام کے طور پر جماعت کو عطا فرمایا ہے۔اللہ تعالیٰ کے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے کئے گئے وعدوں کا یہ ایک عظیم الشان شمر ہے۔اللہ تعالیٰ اس کو ہمیشہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پیغام کو بڑی شان کے ساتھ دنیا کے کونے کونے میں پہنچانے کا ذریعہ بناتا رہے۔ہمارا کام ہے کہ نیک نیتی کے ساتھ خالصتا اللہ کے ہوتے ہوئے دعاؤں اور استغفار کے ساتھ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اس پیغام کو دنیا کے کونے کونے تک پہنچانے کی کوشش کرتے رہیں۔میں جب سے اس ملک بھارت میں آیا ہوں، مجھ سے کئی دفعہ یہ سوال پوچھا گیا ہے کہ اب آپ قادیان جارہے ہیں آپ کیا محسوس کرتے ہیں؟ تو میرا جواب تو ہمیشہ یہی ہوتا ہے کہ یہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کی بستی ہے اور ہر احمدی کو اس سے ایک خاص تعلق ہے، ایک جذباتی لگاؤ ہے اور جوں جوں ہم قادیان کی طرف بڑھتے جا رہے ہیں ان جذبات کی کیفیت میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ایک دنیا دار کا جذباتی تعلق تو ایک وقتی جوش اپنے اندر رکھتا ہے لیکن ایک احمدی کو جسے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے روحانیت کے مدارج طے کرنے کے راستے دکھائے ہیں اس کا آپ سے روحانیت کا تعلق ہے۔اس کے جذبات میں تلاطم یا جذباتی کیفیت وقتی اور عارضی نہیں ہوتی اور نہ ہی وقتی اور عارضی ہونی چاہئے۔اس بستی میں داخل ہو کر جو روحانی بجلی کی اہر جسم میں دوڑتی ہوئی محسوس ہوتی ہے سب احمدیوں کو ، یہاں آنے والوں اور رہنے والوں کو، اس لہر کو اپنی زندگیوں کا حصہ بنا لینا چاہئے اور یہاں کے رہنے والوں کی تو یہ سب سے زیادہ ذمہ داری ہے۔آپ خوش قسمت ہیں کہ آپ اس بستی کے رہنے والے ہیں جس کے گلی کو چوں نے مسیحا کے قدم چومے۔اور آپ خوش قسمت ہیں کہ آپ اس بستی کے رہنے والے ہیں جس کی خاک نے مسیح دوران اور امام الزمان اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عاشق صادق کے پاؤں دم بدم چومے ہیں۔آپ لوگ خوش قسمت ہیں کہ آپ میں سے ایک بڑی تعداد ان لوگوں کی ہے یا اُن لوگوں کی نسل میں سے ہے جنہوں نے مسیح پاک کی اس بستی کی حفاظت کے لئے ہر قربانی دینے کا عہد کیا تھا۔جنہوں نے اپنے اس عہد کو نبھایا اور خوب نبھایا۔