خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 721 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 721

خطبات مسرور جلد سوم 721 خطبہ جمعہ 16 / دسمبر 2005ء جو درویشان یہاں رہے۔ان میں سے اب جو موجود ہیں اکثر ایسی عمر کو پہنچ چکے ہیں جس عمر میں صحت کی وجہ سے اتنی فعال زندگی گزارنے کا موقع نہیں مل سکتا۔یہ ایک قدرتی بات ہے جو عمر کے ساتھ ساتھ ہے۔پھر قادیان کی احمدی آبادی میں سے ایسے بھی ہیں جو مختلف جگہوں سے یہاں آکر آباد ہوئے ہیں ان میں سے بھی میرے خیال میں ایک بڑی تعداد اس لئے یہاں آئی کہ دین کو دنیا پر مقدم رکھیں گے، دین کی خدمت کریں گے۔بہر حال ایک احمدی جب یہاں آیا اور یہاں رہا تو میں یہی حسن ظن رکھتا ہوں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا عشق ہی انہیں یہاں کھینچ لایا ہو گا۔آپ سے میں یہی کہنا چاہتا ہوں جیسا کہ میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں کہ ایک احمدی پر اس بستی کا یہی حق ہے اور ایک احمدی جو اس بستی میں رہتا ہے اس کا یہ فرض ہے کہ صرف دنیا کو اپنا مقصود نہ بنائیں۔درویشوں کی نسلیں بھی اور نئے آنے والے بھی ، سب یہ بات یاد رکھیں۔خدا سے ایسا تعلق قائم ہو جو ہر دیکھنے والے کو نظر آئے۔یہاں باہر سے آنے والے احمد یوں کو بھی اور غیروں کو بھی نظر آئے اور یہاں رہنے والے غیروں کو بھی نظر آئے۔اور وہ تب نظر آئے گا جب ہر ایک میں دعائیں، استغفار اور پاک تبدیلیاں پیدا کرنے کی طرف خاص توجہ پیدا ہوگی۔نیک نیتی سے کی گئی دعائیں اور استغفار یقینا اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو سمیٹنے والی ہوتی ہیں۔اور اللہ تعالیٰ اپنے وعدوں کے مطابق ایسے پاک اور نیک لوگوں کو اپنے نشان بھی دکھاتا ہے۔ان کو دینی لحاظ سے بھی اوپر لے کے جاتا ہے، ان کی دنیاوی ضروریات بھی پوری فرماتا ہے، ان کا خود کفیل ہوتا ہے۔اور ایسے لوگوں کا اگر اپنے پیدا کرنے والے سے صحیح تعلق ہو، تو ان کے دل میں دنیاوی خواہشات بھی کم ہو جاتی ہیں۔آج کل کے معاشرے میں ایک دوسرے کو دیکھ کر، آپس میں رابطے کی کثرت کی وجہ سے، میڈیا کی وجہ سے دنیاوی خواہشات ہی ہیں جو انسان کو دنیا کی طرف زیادہ مائل کر دیتی ہیں۔گھانا میں ایک دفعہ کسی نے مجھے کہا کہ ہم بھی واقف زندگی ہیں اور ڈاکٹر بھی وقف کر کے آتے ہیں لیکن ان کے حالات ہم سے بہتر ہیں۔بہر حال یہ چیز ان کے سامنے تھی تو میں نے ان سے کہا کہ زیادہ استغفار کرو۔اللہ تعالیٰ فضل فرمائے گا۔اس نے بڑی