خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 702
خطبات مسرور جلد سوم 702 خطبہ جمعہ 2 / دسمبر 2005ء اور عبادتوں میں گزارنے کی کوشش کریں۔اگر یہ مقصد آپ نے حاصل کر لیا اور پھر اسے اپنی زندگیوں کا ہمیشہ اور دائی حصہ بنانے کی کوشش کی تو سمجھیں آپ کا اس جلسہ میں شمولیت کا مقصد پورا ہو گیا۔پس ان دنوں میں خاص طور پر اس مقصد کو حاصل کرنے کی کوشش کریں۔اور ان تین دنوں میں آپ خود بھی اور آپ کے عزیزوں اور دوستوں کو بھی یہ احساس ہو کہ واقعی آپ نے اپنے اندر نمایاں تبدیلی پیدا کی ہے۔اگر یہ تبدیلیاں پیدا نہیں ہور ہیں ، آپ کے نیکی اور تقویٰ کے معیار نہیں بڑھ رہے تو پھر اس جلسے میں شمولیت بے فائدہ ہے۔کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بڑا واضح طور پر فرما دیا ہے کہ یہ کوئی دنیاوی میلہ نہیں ہے جہاں لوگ جمع ہوں اور آپس میں گھلیں ملیں۔شور شرابہ ہو، نعرے بازی ہو اور بس۔ایک سال جب آپ نے محسوس کیا کہ لوگ اس مقصد کو پورا نہیں کر رہے تو آپ نے جلسہ بھی منعقد نہیں فرمایا تھا۔اگر نعرے دل سے نہیں اٹھ رہے، اگر نعرے آپ کے دل میں پاک تبدیلی پیدا کرنے کا جوش پیدا نہیں کر رہے تو یہ نعرے بے فائدہ ہیں۔اگر تقریریں سن کر آپ میں صرف وقتی جوش پیدا ہورہا ہے اور جلسہ گاہ سے باہر نکل کر اسی جگہ پر کھڑے ہوں جہاں آپ پہلے تھے۔اور اپنی روحانی ترقی میں قدم آگے بڑھانے والے نہ ہوں تو غور کرنا چاہئے کہ ہم کیوں جلسے میں شامل ہوتے تھے۔یہ غور کرنا چاہئے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہم سے کیا چاہتے ہیں۔پس اگر آپ میں سے ہر ایک کو اس غور کی عادت پڑ جائے یا احساس پیدا ہو جائے ، جوان اور بوڑھے، مرد اور عورتیں سب اس سوچ کے ساتھ جلسے کے یہ تین گزارنے کی کوشش کریں گے تو نہ صرف ان تین دنوں میں روحانیت میں ترقی کر رہے ہوں گے بلکہ جلسے کے بعد بھی یہ احساس رہے گا کہ ہم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام کو ماننے کے بعد اس تعلیم پر عمل کر رہے ہیں۔ہم نے آپ کے ہاتھ پر ان شرائط پر بیعت کی ہے جو صرف اور صرف خدا تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرنے کی طرف لے جاتی ہیں۔ہم نے ان شرائط پر آپ کی بیعت کی ہے جو صرف اور صرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے مطابق اپنی زندگیوں کو ڈھالنے کی طرف توجہ دلانے والی ہیں۔اگر یہ احساس پیدا نہیں ہوتا تو احمدی ہونا بھی بے فائدہ ہے۔بلکہ اپنے آپ کو گناہگار بنانے والی بات ہے۔اور اس کے ساتھ