خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 703
خطبات مسرور جلد سوم 703 خطبہ جمعہ 2 / دسمبر 2005ء ساتھ دنیاوی لحاظ سے بھی بے مقصد مشکلات میں گرفتار ہونے والی بات ہے۔یہاں بھی بعض اوقات آپ لوگوں کو دوسرے مسلمانوں کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑ جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے آپ کی اکثریت اللہ تعالیٰ کا تقویٰ دل میں قائم کرتے ہوئے، اللہ کی خاطر احمدیت کی وجہ سے آنے والی مشکلوں اور مخالفتوں کو برداشت کرتی ہے اور آپ اللہ کے فضلوں کے وارث بھی ٹھہرتے ہیں۔لیکن جو احمدیت قبول کرنے کے بعد بھی اپنے اندر تبدیلی پیدا نہیں کر رہے وہ بلا وجہ ان مخالفتوں کو اپنے سرمول لے رہے ہیں۔کیونکہ اپنے اعمال ٹھیک نہ کر کے، اللہ کی رضا کو حاصل کرنے کی طرف توجہ نہ دے کر آپ اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے وارث نہیں ٹھہر رہے ہوتے۔پس اس جذبے کو جو پاک تبدیلیاں اپنے اندر پیدا کرنے کا جذبہ ہے آپ نے آگے بڑھانا ہے، اس کے اعلیٰ معیار حاصل کرنے ہیں۔اللہ تعالیٰ کے تمام حکموں پر عمل کرنے کے تمام اعلیٰ معیار حاصل کرنے ہیں۔ایک دوسرے کے حقوق ادا کرنے ہیں۔آپس میں محبت اور بھائی چارے کی فضا پیدا کرنی ہے۔جیسا کہ میں نے کہا ایک جگہ ٹھہر نا نہیں بلکہ آگے سے آگے بڑھنا ہے۔اللہ تعالیٰ کا یہی حکم ہے کہ تمہاری زندگیوں کا یہی مقصد ہونا چاہئے کہ فَاسْتَبِقُوا الْخَيْرَاتِ ﴾ (البقرة: 149) تم نیکیوں میں ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی کوشش کرو۔جب تم ایک دوسرے سے نیکیوں میں آگے بڑھنے کی کوشش کرو گے تو نیکیوں کے اعلیٰ معیار بھی قائم کر رہے ہو گے۔اور یہ تبھی ہو گا جب اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرو گے۔پس ان دنوں میں اللہ تعالیٰ کا خوف دلوں میں رکھتے ہوئے ، تقویٰ پر قدم مارتے ہوئے، اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہوئے ، اس کے آگے جھکتے ہوئے ، اس سے مدد مانگتے ہوئے تقویٰ میں بڑھنے کی کوشش کریں۔اور ایک اچھے مسلمان ہونے کی حیثیت سے اللہ تعالیٰ نے جو ہماری ذمہ داری لگائی ہے آپ لوگ اس کو پورا کرنے والے ہوں۔احمدی لوگ تو بہت خوش قسمت لوگ ہیں جو اس زمانے کے امام کی جماعت میں شامل ہوئے ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی کو پورا کرنے والے بنے ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس حکم پر عمل کرنے والے بنے ہیں کہ جب میرے مہدی کا ظہور ہوتو اسے مان لینا