خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 661
خطبات مسرور جلد سوم 661 خطبہ جمعہ 11 /نومبر 2005ء تو جیسا کہ میں نے بتایا تھا کہ مسجد میں جانے سے پہلے یا نماز پڑھنے سے پہلے زینت سے مراد ظاہری صفائی اور وضو بھی ہے تو یہاں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جو فرمایا کہ اچھی طرح وضو کرو یہ بھی ایک بنیادی حکم ہے۔اس طرح اچھی طرح وضو کرنے کا طریق بھی آپ نے ہمیں سمجھا دیا۔ایک روایت میں آتا ہے۔حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک دفعہ پانی منگوایا۔پہلے تین مرتبہ ہاتھ دھوئے۔پھر اپنے دائیں ہاتھ سے برتن سے پانی لے کر کلی کی پھر ناک صاف کیا پھر تین بار اپنا چہرہ دھویا۔پھر کہنیوں تک تین بارا اپنے ہاتھ دھوئے ، کہنیاں شامل کر کے اس کے بعد سر کا مسح کیا پھر تین بارٹخنوں تک اپنے پاؤں دھوئے۔وضو میں ٹخنے بھی شامل ہوتے ہیں۔پھر اس طرح وضو مکمل کرنے کے بعد آپ نے کہا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جس نے اس طرح وضو کیا جس طرح میں نے کیا ہے پھر وساوس سے محفوظ رہ کر خشوع و خضوع سے دورکعت نماز پڑھی اس کے پہلے گناہ بخش دیئے جائیں گے۔(بخارى ، كتاب الوضوء ، باب الوضوء ثلاثاً ثلاثاً) پس یہ زینت کے لوازمات ہیں جو ہر مومن کو اختیار کرنے چاہئیں۔پھر اسی آیت میں جو میں نے تلاوت کی ہے۔زینت اور لباس تقوی کے ذکر کے بعد فرمایا کہ کھاؤ اور پیو لیکن حد سے تجاوز نہ کرو۔ایک تو اس کا یہ مطلب ہے کہ کیونکہ خوراک کا بھی انسانی ذہن پر اثر پڑتا ہے طبیعت پر اثر پڑتا ہے۔خیالات میں سوچوں پر اثر پڑتا ہے اس لئے پاکیزہ ، صاف اور حلال غذا کھاؤ تا کہ کسی بھی لحاظ سے تمہارے سے کوئی ایسا فعل سرزد نہ ہو جو تمہیں تقویٰ سے دور لے جانے والا ہو۔جن چیزوں کے کھانے سے اللہ تعالیٰ نے روکا ہے ان کے کھانے سے رک جاؤ۔جن چیزوں کے پینے سے اللہ تعالیٰ نے روکا ہے ان کے پینے سے رک جاؤ۔کیونکہ ان کا کھانا اور پینا اس حکم کے تحت نا جائز ہے۔اگر کھاؤ پیو گے تو اللہ تعالیٰ کی حدود سے تجاوز کرو گے۔اسراف کا ایک مطلب گھن لگنا بھی ہے۔آج کل دیکھ لیں بہت سی بیماریاں جو پیدا ہو رہی ہیں اس خوراک کی وجہ سے پیدا ہورہی ہیں۔ٹھیک ہے اور بہت سے عوامل بھی ہیں لیکن جب