خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 662 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 662

خطبات مسرور جلد سوم 662 خطبہ جمعہ 11 /نومبر 2005ء علاج ہو رہا ہو تو ڈاکٹروں کی تان دوائیوں کے علاوہ خوراک پہ بعض دفعہ آ کے ٹوٹتی ہے۔اور اس زمانے میں جبکہ انسان بہت زیادہ تن آسان ہو گیا ہے سنتی اور آرام کی اتنی زیادہ عادت پڑ گئی ہے یہ خوراک ہی ہے جو کئی بیماریاں پیدا کرتی ہے۔یہاں یورپ میں بھی کہتے ہیں کہ جو برگر وغیرہ زیادہ کھانے والے لوگ ہیں ان کو انتڑیوں کی بعض بیماریاں ہو جاتی ہیں۔پھر چاکلیٹ کھانے والے بچوں کو کہتے ہیں کہ زیادہ چاکلیٹ نہ کھاؤ دانت خراب ہو جاتے ہیں، کیٹر ا لگ جاتا ہے۔اور جب انسان پہ بیماریاں آجائیں تو پھر یکسوئی سے عبادت بھی نہیں ہو سکتی۔اس لئے حکم ہے کہ مومن کو بھوک چھوڑ کر اور اعتدال سے کھانا چاہئے۔اسی لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: مومن ایک آنت سے کھاتا ہے جبکہ کا فرسات آنتوں سے کھاتا ہے۔(بخاري، كتاب الأطعمة ، باب المؤمن ياكل فى معى واحد۔۔۔۔۔۔) پھر اللہ تعالیٰ کے حکموں کو نظر انداز کرتے ہوئے بعض دوسری چیزیں مثلاً شراب وغیرہ اور دوسری نشہ آور چیزیں جو استعمال کرتے ہیں ان کا بھی اسی وجہ سے مذہب سے کوئی تعلق نہیں رہتا۔اللہ تعالیٰ سے بھی دور چلے جاتے ہیں۔تو اس لئے فرمایا کہ کھانے پینے میں حدود سے تجاوز نہ کرو ورنہ ایسی قباحتیں پیدا ہوں گی، ایسی حالت پیدا ہوگی ، ایسی تکلیفیں ہوں گی جو گھن کی طرح تمہاری صحت کو کھالیں گی اور نیکیوں ، عبادتوں سے محروم ہو جاؤ گے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : واضح ہو کہ قرآن شریف کے رو سے انسان کی طبعی حالتوں کو اس کی اخلاقی اور روحانی حالتوں سے نہایت ہی شدید تعلقات واقع ہیں۔یہاں تک کہ انسان کے کھانے پینے کے طریقے بھی انسان کی اخلاقی اور روحانی حالتوں پر اثر کرتے ہیں۔اور اگر ان طبعی حالتوں سے شریعت کی ہدایتوں کے موافق کام لیا جائے تو جیسا کہ نمک کی کان میں پڑ کر ہر ایک چیز نمک ہی ہو جاتی ہے۔یعنی نمک کی جو کان ہے اس میں چیزیں نمکین ہو جاتی ہیں۔ایسا ہی یہ تمام حالتیں اخلاقی ہی ہو جاتی ہیں۔اور روحانیت پر نہایت گہرا اثر کرتی ہیں۔اسی واسطے قرآن شریف نے تمام