خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 660 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 660

خطبات مسرور جلد سوم 660 خطبہ جمعہ 11 /نومبر 2005ء رہے اور پھر سلام پھیر کر جب سنتیں پڑھنے کا وقت آیا تو جلدی جلدی ٹکریں مار لیں تا کہ جلدی فارغ ہوں۔تو یہی وسوسے ہیں جو شیطان ابن آدم کے دل میں پیدا کرتا ہے کہ جلدی کرو فلاں کام کا حرج نہ ہو جائے۔ایسا نہ ہو جائے ویسا نہ ہو جائے۔اس لئے یہ بھی حکم ہے کہ نماز میں جب امام کی انتظار میں یا نماز کھڑی ہونے کے انتظار میں مسجد میں بیٹھنا پڑے تو ذکر الہی میں وقت گزارو۔اس لئے حدیث میں آتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جب تک نماز کی خاطر کوئی شخص مسجد میں بیٹھا رہتا ہے نماز میں ہی مصروف سمجھا جاتا ہے۔اور فرشتے اس پر درود بھیجتے رہتے ہیں اور کہتے ہیں۔اے اللہ! اس پر رحم کر اس کو بخش دے، اس کی توبہ قبول کرے۔(مسلم۔کتاب المساجد باب فضل الصلاة المكتوبة في جماعة۔۔۔۔۔) تو دیکھیں نماز کا انتظار کرنے والوں کا بھی کتنا بڑا اجر ہے۔اس تو بہ واستغفار کی وجہ سے، اس انتظار کی وجہ سے، اس ذکر الہی کی وجہ سے جو ایک مومن اللہ کے حکم کے مطابق زینت اختیار کرنے کی کوشش کر رہا ہے، فرشتے بھی اس پر درود بھیج رہے ہیں اور اس کی زینت کو اور زیادہ صیقل کر رہے ہیں اور زیادہ نکھار رہے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق اس میں مدد دے رہے ہیں۔پس یہ جو اللہ تعالیٰ کا اپنے بندے کے لئے دوڑ کر آنا ہے، ایک حدیث میں آتا ہے کہ اللہ بندے کی طرف دوڑ کر آتا ہے۔اس کے نظارے بھی اللہ تعالیٰ مختلف طریقوں سے اپنے بندے کو کرواتا ہے، بلکہ اللہ کی عبادت کا جوش رکھتے ہوئے مسجد میں جانے کی وجہ سے ہر اس قدم پر جو مسجد کی طرف اٹھتا ہے اللہ تعالیٰ اس کا بھی ثواب دیتا ہے۔ایک روایت میں آتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کہ ” جب ایک شخص اچھی طرح وضو کرے پھر نماز کی نیت سے مسجد کی طرف آئے یعنی نماز کے علاوہ کوئی اور چیز اسے مسجد میں نہ لائے“۔ظاہری نمود و نمائش نہ ہو بلکہ اللہ کا تقویٰ اختیار کرتے ہوئے مسجد میں آ رہا ہو تو ایسے شخص کا کوئی قدم نہیں اٹھتا مگر اس وجہ سے اس کا ایک درجہ بلند ہو جاتا ہے۔اور ایک گناہ معاف ہو جاتا ہے“۔(صحیح بخاری کتاب الاذان۔باب فضل صلوة الجماعة)