خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 597
خطبات مسرور جلد سوم 597 خطبہ جمعہ 7 اکتوبر 2005ء سے شعبان کے آخری روز خطاب فرمایا اور فرمایا : اے لوگو! تم پر ایک عظیم اور مبارک مہینہ سایہ لگن ہوا ہے۔ایسا بابرکت مہینہ جس میں ایک رات ایسی ہے جو ہزار مہینے سے بہتر ہے۔یہ ایسا مہینہ ہے جس کے روزے اللہ تعالیٰ نے فرض کئے ہیں۔اور جس کی راتوں کا قیام اللہ تعالیٰ نے نفل قرار دیا ہے۔جو شخص کسی بھی اچھی خصلت کو اس میں اپناتا ہے، وہ اس شخص کی طرح ہو جاتا ہے جو اس کے علاوہ جملہ فرائض کو ادا کر چکا ہو۔اور جس شخص نے ایک فریضہ اس مقدس مہینے میں ادا کیا، وہ اس شخص کی طرح ہوگا جس نے ستر فرائض رمضان کے علاوہ ادا کئے۔اور رمضان کا مہینہ صبر کرنے کا مہینہ ہے اور صبر کا اجر جنت ہے۔اور یہ مواسات واخوت کا مہینہ ہے اور یہ ایسا مہینہ ہے کہ اس میں مومن کے رزق میں برکت دی جاتی ہے۔(الترغيب والترهيب كتاب الصوم الترغيب في صيام رمضان حدیث نمبر 1487) تو دیکھیں کیا کیا برکتیں ہیں اگر ہم اللہ تعالیٰ کے حکم کو پورا کرتے ہوئے روزہ رکھ رہے ہیں اور تقویٰ حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لئے یہ سب کچھ کر رہے ہیں، نیکیوں پر قدم مارنے کی کوشش کر رہے ہیں تو اللہ تعالیٰ کے رسول نے ہمیں یہ خوشخبری دی ہے کہ اس نیت سے کئے گئے عمل پھر اللہ تعالی ضائع نہیں کرتا۔بلکہ اتنا دیتا ہے کہ تم سوچ بھی نہیں سکتے۔صرف ایک اچھی عادت اور نیکی کا کام کرنے کا اجر اتنا ہے کہ گویا تمام فرائض جو ہمارے ذمہ ہیں وہ ہم نے ادا کر دیئے۔اور رمضان میں تقویٰ پر چلتے ہوئے ادا کئے گئے۔ایک فرض کا ثواب اتنا ہے کہ عام حالات میں ادا کئے گئے 70 فرائض جتنا ثواب ہوتا ہے۔اتنا بڑھا کر اللہ میاں رمضان میں دیتا ہے۔تو ان دنوں کی ایک ایک نیکی عام حالات کی 70-70 نیکیوں کے برابر ثواب دلا رہی ہے۔لیکن ہمیں یہ یا درکھنا چاہئے کہ ثواب تبھی ہو گا جب ہم اللہ کی رضا حاصل کرنے کے لئے سب کچھ کر رہے ہوں گے۔پھر فرمایا: یہ صبر کا مہینہ ہے۔بہت سی باتوں سے مومن صبر کر رہا ہوتا ہے۔صرف کھانے پینے سے ہی نہیں ہاتھ روک رہا بلکہ اور بھی بہت سے کام ہیں جن سے رکتا ہے۔بہت سی ایسی برائیاں ہیں جن سے رکتا ہے۔دشمنوں کی زیادتیوں پر صبر کرتا ہے۔بعض دفعہ اپنے حقوق چھوڑتا