خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 596
خطبات مسرور جلد سوم 596 خطبه جمعه 7 اکتوبر 2005ء برکتوں اور ثواب اور اجر کا کوئی حساب ہی نہیں ہے جو اللہ تعالیٰ عام حالات کی نسبت دیتا ہے۔ایک روایت میں آتا ہے حضرت ابو مسعود غفاری بیان کرتے ہیں کہ میں نے رمضان شروع ہونے کے بعد ایک روز آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ اگر لوگوں کو رمضان کی فضلیت کا علم ہوتا تو میری اُمت اس بات کی خواہش کرتی کہ سارا سال ہی رمضان ہو۔اس پر بنو خزاعہ کے ایک آدمی نے کہا کہ اے اللہ کے نبی! ہمیں رمضان کے فضائل سے آگاہ کریں۔چنانچہ آپ نے فرمایا یقیناً جنت کو رمضان کے لئے سال کے آغاز سے آخر تک مزین کیا جاتا ہے۔پس جب رمضان کا پہلا دن ہوتا ہے تو عرش الہی کے نیچے ہوائیں چلتی ہیں۔(الترغيب والترهيب - كتاب الصوم - الترغيب فى صيام رمضان احتساباً۔۔۔۔۔حديث نمبر 1498) پس یہ ہوائیں بھی اللہ تعالیٰ کے پاک بندوں کو جنہوں نے یہ عہد کیا ہو کہ اپنے اندر رمضان میں پاک تبدیلیاں پیدا کرنی ہیں اور تقویٰ اختیار کرنا ہے اونچا اڑا کر لے جانے والی ثابت ہوتی ہیں۔اللہ تعالیٰ کا قرب دلانے والی بنتی ہیں۔یہ جو فرمایا کہ سارا سال جنت کی تزئین و آرائش ہو رہی ہے اس کا فیض یونہی نہیں مل جاتا۔یقینا روزوں کے ساتھ عمل بھی چاہئیں۔پس جب اللہ تعالیٰ اتنا اہتمام فرما رہا ہو کہ سارا سال جنت کی تیاری ہو رہی ہے کہ رمضان آ رہا ہے میرے بندے اس میں روزے رکھیں گے، تقویٰ پر چلیں گے، نیک اعمال کریں گے اور میں ان کو بخشوں گا اور میں قرب دوں گا۔تو ہمیں بھی تو اپنے دلوں کو بدلنا چاہئے۔ہمیں بھی تو اس لحاظ سے تیاری کرنی چاہئے اور جو اللہ تعالیٰ نے موقع میسر کیا ہے اس سے فیض اٹھانا چاہئے۔رمضان کے کچھ اور فضائل بھی مختلف احادیث میں ہیں ان میں سے میں چند ایک بیان کرتا ہوں جن سے پتہ چلتا ہے کہ خدا تعالیٰ کس کس طرح اپنے بندوں کو رمضان میں نوازتا ہے یا نوازنا چاہتا ہے۔پس بندہ کا بھی یہ کام ہے کہ اس کی طرف بڑھے اور تقویٰ پیدا کرے۔اگر ان شرائط کے ساتھ روزے رکھے جائیں جن کے کرنے کا ہمیں اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے تو یہی روزے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے وارث بنارہے ہوں گے۔حضرت سلمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم