خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 598 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 598

خطبات مسرور جلد سوم 598 خطبہ جمعہ 7 اکتوبر 2005ء ہے اور اللہ تعالیٰ کی خاطر صبر کرتا ہے۔ایسے لوگوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے که وَالَّذِيْنَ صَبَرُوا ابْتِغَاءَ وَجْهِ رَبِّهِمْ ﴾ (الرعد: 23) اور ایسے لوگ جنہوں نے اپنے رب کی رضا حاصل کرنے کے لئے صبر کیا۔پس یہ صبر جو اللہ کی خاطر کیا جائے وہ نیکیوں کے ساتھ مشروط ہے۔ایک حدیث میں آتا ہے کہ اگر تمہیں کوئی گالی دے تو صبر کرو اور جواب نہ دو اور اتنا کہہ دو کہ میں روزے سے ہوں تو تمہارے لئے یہ اجر کا موجب ہوگا۔تمہیں اس کا ثواب ملے گا۔اور جب ایک مومن کو رمضان میں ایسے صبر کی عادتیں پڑ جاتی ہیں تو پھر زندگی کا حصہ بن جانی چاہئیں تا کہ جنت کا وارث بنانے والی ہوں۔یہ فرمایا کہ اگر اللہ سے رحم ، درگز راور بخشش مانگتے ہو تو خود بھی دوسروں کے غمخوار بنو، ان کی تکلیفوں کا خیال رکھو، ان کا بھی کچھ احساس اپنے دل میں پیدا کرو۔اللہ کی خاطر ہمدردی کر رہے ہو تو اس کا رنگ ہی کچھ اور ہونا چاہئے۔جب اللہ کی خاطر دوسروں سے نیک سلوک ہوگا تو یہ نیک سلوک اپنے مفادات متاثر ہونے سے کم نہیں ہوگا بلکہ اپنی فطرت کا حصہ بن چکا ہو گا۔اور جب ایک دوسرے سے ہمدردی اور درگزر سے کام لے رہے ہوں گے تو یہ اس دنیا میں بھی جنت کا باعث بن رہا ہو گا اور اگلے جہان میں بھی ہمیں جنت کی خوشخبری دے رہا ہوگا۔پھر یہ بھائی چارے اور محبت و پیار کا مہینہ ہے۔ہر بھائی دوسرے بھائی کے قصور اللہ کی خاطر معاف کر رہا ہوگا۔ہر رشتہ دوسرے رشتے کے قصور معاف کر رہا ہو گا۔ہر تعلق دوسرے تعلق کے قصور معاف کر رہا ہوگا اور بھائی چارے کی فضا اللہ تعالیٰ کی خاطر پیدا کر رہا ہو گا۔تو اس مہینہ کی برکت کی وجہ سے اور اللہ تعالیٰ کا اپنے بندے کے ایک فعل کے عام حالات کی نسبت 70 گنا ثواب دینے کی وجہ سے ہم پھلانگتے اور دوڑتے ہوئے اللہ تعالیٰ کا قرب پانے کی منزل کی طرف جارہے ہوں گے اور جنت میں داخل ہورہے ہوں گے۔پھر فرمایا کہ مومن کے رزق میں برکت ہوتی ہے۔ظاہر ہے مومن کا رزق بھی حلال رزق ہوتا ہے اور ہونا چاہئے۔تھوڑی سی محنت اور تھوڑے سے رزق میں اللہ تعالیٰ برکت ڈال دیتا