خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 589 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 589

خطبات مسرور جلد سوم 589 خطبہ جمعہ 30 ستمبر 2005ء کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔میں تسلیم کرتا ہوں کہ بہت خوبصورت تعلیم ہے۔لیکن جماعت میں مجھے شامل ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔کیونکہ اس میں شامل بہت سوں کے اپنے عمل، اس تعلیم کے خلاف ہیں، اس تعلیم سے مختلف ہیں۔اس سفر میں ، سکنڈے نیوین ممالک میں مجھے ایک خاتون نے کہا ، وہ احمدیت کے کافی قریب ہیں کہ میں جماعت کو بہت اچھا سمجھتی ہوں۔جمعہ بھی آ کے اکثر ہمارے ساتھ ہی پڑھتی ہیں۔لیکن بیعت نہیں کرنا چاہتیں۔کیونکہ انہوں نے کہا کہ میں دیکھ رہی ہوں کہ بعض عورتوں کی باتیں اور ایک دوسرے کے خلاف بولنا ویسا ہی ہے جیسا کہ ایک غیر احمدی عورت میں ہے تو کیا ضرورت ہے کہ میں جماعت میں شامل ہوں۔کبھی میں سوچتی ہوں کہ بیعت کرلوں، کبھی سوچتی ہوں نہ کروں، عجیب مخمصے میں پڑی ہوئی ہوں۔اس لئے دعوت الی اللہ کے ساتھ نیک اعمال کا بہت جوڑ ہے۔حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادائیگی کی طرف بہت توجہ کی ضرورت ہے۔ورنہ باوجود اس کے کہ بات اچھی ہو گی، لیکن اپنے بدنمونے کی وجہ سے نیک نتائج پیدا نہیں ہوتے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی فرمایا ہے کہ تمہاری علمی دلیلیں تمہارے تبھی کام آئیں گی جب تمہارے عمل بھی نیک ہوں گے۔اور نیک عمل وہ ہیں جو دوسروں کو کھینچتے ہیں۔پس آج میں اپنے اس مختصر سے خطبے میں ( کیونکہ ابھی میں نے سفر کرنا ہے ) اس طرف توجہ دلانی چاہتا ہوں کہ ایک تو دعوت الی اللہ کی طرف توجہ دیں۔یہاں ہالینڈ کے لوگ ، بعض یہاں شدت پسند بھی ہیں لیکن بہت تھوڑے ہیں جو مسلمانوں کے خلاف ہیں۔یہاں بہت بڑی تعداد ایسی بھی ہے جو دین سے دلچسپی بھی رکھتی ہے اور اسلام کے بارے میں سننا بھی چاہتی ہے۔یہ چھوٹا سا ملک ہے اور جیسا کہ میں نے کہا کہ لوگوں کی اکثریت بھی شریف ہے۔پھر یہاں دوسرے ملکوں کے بعض لوگ ، عرب ممالک سے بھی آکر یہاں آباد ہوئے ہیں۔اگر آپ لوگ پروگرام بنا کر ان میں تبلیغ کریں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ آپ کے عمل بھی ان کو متاثر کرنے والے ہوں تو یہاں مقامی لوگوں میں بھی اور مختلف قومیتوں میں بھی آپ کو کامیابیاں حاصل ہوسکتی ہیں۔اسلام اور احمدیت کا پیغام پہنچائیں۔ایسا پیغام جو ثمر آور ہو جس میں پھل لگنے ہوں۔وہ