خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 588 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 588

خطبات مسرور جلد سوم 588 خطبہ جمعہ 30 ستمبر 2005ء پس ایک احمدی جو یہ دعویٰ کرتا ہے کہ میں نے اس زمانے کے حکم اور عدل حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اس لئے مانا ہے کہ میں کامل فرمانبرداروں میں شمار کیا جاؤں، اس لئے مانا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر عمل کروں، اس لئے مانا ہے کہ آج خدا تک پہنچنے کا راستہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام نے ہی دکھایا ہے تو پھر ہر وقت یہ بات ذہن میں رکھنی چاہئے که تمام فیض بھی تبھی حاصل کر سکتے ہیں جب ان تمام حکموں پر بھی عمل کریں گے جو اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دیئے اور جن کی طرف اس زمانے میں ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام نے توجہ دلائی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کواللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا کہ میرا پیغام تمام دنیا کو پہنچا دو اور آپ کو سب سے بڑا داعی الی اللہ قرار دیا تھا۔فرماتا ہے ﴿دَاعِيًا إِلَى اللَّهِ بِإِذْنِهِ وَسِرَاجًا منيرا ( الاحزاب: (47) یعنی اور اللہ کے حکم سے اس کی طرف بلانے والا اور ایک چمکتا ہوا سورج بنا کر بھیجا ہے۔پس اس چمکتے ہوئے سورج نے ہر طرف اللہ تعالیٰ کی تعلیم کی روشنی پھیلائی اور اپنا سب کچھ اس راہ میں قربان کر دیا۔اور اندھیروں کو دور کیا۔جہاں آپ نے دعوت الی اللہ کر کے خودان اندھیروں کو دور کیا وہاں اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق کہ وَمَنْ أَحْسَنُ قَوْلًا مِّمَّنْ دَعَا إِلَى اللهِ ﴾ (حم السجدة: 34 اپنے ماننے والوں کو بھی یہ نصیحت فرمائی کہ اللہ تعالیٰ کے پیغام کو آگے پہنچاتے رہو۔اور تم دنیا میں جو بھی بات کرتے ہو ان میں سب سے زیادہ پیاری اور خوبصورت وہ باتیں ہوتی ہیں جب تم اللہ تعالیٰ کا پیغام دوسروں تک پہنچارہے ہوتے ہو۔لیکن ساتھ یہ بات بھی ہر وقت ذہن نشین رکھنی چاہئے کہ دعوت الی اللہ اور تبلیغ بھی اس وقت ہی اللہ کے نزدیک اور اس کے رسول کے نزدیک نیکی شمار ہوگی جب تمہارے عمل بھی نیک ہوں گے۔ورنہ تو گنہگار ہو گے۔ایسی تبلیغ میں برکت ہی نہیں ہوگی جب اپنے عمل اللہ اور اس کے رسول کے حکموں کے مطابق نہ ہوں۔تمہاری باتیں سن کر ہو سکتا ہے کہ وقتی طور پر کوئی متاثر ہو جائے لیکن جب تمہارے درمیان میں آ کر تمہارے میں شامل ہو کر تمہارے عمل دیکھے گا تو اگر اس شخص پر جو شامل ہوا ہے اللہ تعالیٰ کا خاص فضل نہ ہو، تو ہوسکتا ہے کہ جو بات کچھ کر رہے ہوں، عمل کچھ کر رہے ہوں ان کے عملوں کی وجہ سے ان کو دھکا لگے اور وہ کہے کہ ٹھیک ہے تعلیم اچھی ہے اس پر مجھے عمل