خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 590
خطبات مسرور جلد سوم 590 خطبہ جمعہ 30 ستمبر 2005ء پیغام پہنچانے کے لئے مجھے امید ہے انشاء اللہ تعالیٰ موقعے میسر آ سکتے ہیں۔عموماً ہم سمجھتے ہیں کہ صرف مہینے میں یا کبھی کبھار ایک آدھ سٹال لگا لیا یا نمائش وغیرہ ہوئی تو اس میں سٹال لگالیا تو یہی تبلیغ کا ذریعہ ہے اور کافی ہے۔ٹھیک ہے یہ ایک ذریعہ ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس ذریعہ سے تبلیغ فرمایا کرتے تھے۔حج کے موقعوں پر یا دوسرے میلوں کے موقعوں پر آپ جاتے تھے اور تبلیغ کرتے تھے، آپ کو بڑی سختیاں بھی جھیلنی پڑیں۔لیکن اس کے علاوہ بھی بہت سے راستے ہیں۔آپ نے تبلیغ کا ہر راستہ اپنایا۔یہاں مثلاً دیہاتوں میں رابطے بڑھائیں۔دیہاتوں میں نسبتاً شریف آدمی ہوتے ہیں۔پھر عرب وغیرہ جو یہاں مختلف جگہوں سے مختلف ملکوں سے آ کر آباد ہوئے ہیں ان میں جائیں۔یونیورسٹیوں اور کالجوں میں جو بچے پڑھتے ہیں، ہمارے سٹوڈنٹ پڑھتے ہیں ، وہ وہاں سیمینار وغیرہ کریں۔اکثر ملکوں نے اس طرف توجہ دی ہے اور دے رہے ہیں اور ان جگہوں پر اسلام کا جو صیح حقیقی اسلام ہے اور جو اسلام کی اصل خوبصورت تعلیم ہے اس کا تعارف حاصل ہو رہا ہے۔ڈنمارک ایک چھوٹا سا ملک ہے، جماعت کی تعداد بھی شاید آپ کی جماعت سے کم ہی ہو۔وہاں بھی میرے دورہ کے موقع پر نوجوان لڑکوں نے جو مختلف پیشوں سے بھی وابستہ تھے یا کالجوں اور یو نیورسٹیوں میں تعلیم حاصل کر رہے تھے۔اپنے پروفیسروں اور پڑھے لکھے لوگوں اور ممبر آف پارلیمنٹ وغیرہ کو ایک ہوٹل میں ریسیپشن (Reception) میں بلایا اور سب نے بڑا اچھا اثر لیا۔پہلے بھی کیونکہ ان کے رابطے تھے ، احمدیت کے بارے میں کچھ نہ کچھ تعارف تھا۔مزید ان کو تعارف ہوا ، ان کے دلوں میں مزید روشنی پیدا ہوئی۔لیکن یہ پرانے رابطوں سے چیز پیدا ہو سکتی ہے کہ مسلسل رابطے ہوں۔اس لئے رابطے بڑھائیں۔اور پھر آپ کے نیک نمونے، آپ کی شرافت، آپ کا اللہ تعالیٰ سے تعلق جب ان لوگوں پر ظاہر ہو گا تو تبلیغ کے مزید میدان کھلیں گے۔پھر اس کے علاوہ بھی اپنے مقامی حالات کے مطابق مختلف راستے تلاش کریں۔یہ ضروری نہیں کہ ایک معین راستہ دے دیا ، اس پر عمل کرنا ہے۔اور جب ایک لگن سے اور صبر کے ساتھ تبلیغی رابطے کریں گے اور لوگوں تک پیغام پہنچائیں گے، اپنے عملوں سے ان پر ایک نیک اثر