خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 51
خطبات مسرور جلد سوم 51 خطبہ جمعہ 28 /جنوری 2005ء لینے کے لئے سپین کی جماعت نے بھی کافی کردار ادا کرنا تھا۔اس لئے بہر حال اس کی عملی صورت کا جائزہ لینا ہوگا۔سپین کے دورے کے دوران ایک یہ بھی فائدہ ہوا کہ پرتگال سے، جو ساتھ ہی وہاں ملک ہے، جماعت کے احباب جلسے پر آئے ہوئے تھے۔ان کی عاملہ بھی تھی ان سے میٹنگ ہو گئی۔ابھی تک وہاں بھی مسجد نہیں ہے۔اور مسجد نہ ہونے کی وجہ سے نو مبائعین کو سنبھالنا مشکل ہو رہا ہے کیونکہ اکثر افریقن اور عرب ملکوں کے مسلمانوں میں سے احمدیت میں داخل ہورہے ہیں۔وہ مسجد نہ ہونے کی وجہ سے مایوس ہو جاتے ہیں۔تو وہاں بھی میں نے ان کو کہا ہے کہ جلد از جلد مسجد بنائیں اور وہاں اللہ تعالیٰ نے ایسی صورت پیدا کر دی ہے، مجھے امید ہے انشاء اللہ تعالیٰ اس میں کامیابی ہوگی کہ وہیں سے مسجد کے اخراجات کے سامان بھی مہیا ہو جائیں گے۔ایک پرانا گھر ہے جس کو بیچ کے نئی جگہ خریدی جاسکتی ہے اور تعمیر بھی ہوسکتی ہے۔اور اگر تھوڑا بہت کچھ ضرورت ہوئی تو انشاء اللہ مرکز سے پوری ہو جائے گی۔دعا کریں اللہ تعالیٰ ان تمام منصوبوں میں برکت ڈالے۔اب یورپ کے ہر ملک میں اور ہر شہر میں ہمیں مسجد بنانے کی کوشش کرنی چاہئے۔انشاء اللہ تعالیٰ یہ کام تو ہونے ہیں۔دعا یہ کرنی چاہئے کہ خدا تعالیٰ ہمیں یہ توفیق دے اور ہم ان ترقیات کو پورا ہوتا ہوا دیکھیں جن کا وعدہ اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے فرمایا ہے۔آپ فرماتے ہیں: ” دیکھو وہ زمانہ چلا آتا ہے بلکہ قریب ہے کہ خدا اس سلسلہ کی دنیا میں بڑی قبولیت پھیلائے گا اور یہ سلسلہ مشرق اور مغرب اور شمال اور جنوب میں پھیلے گا اور دنیا میں اسلام سے مراد یہی سلسلہ ہو گا۔یہ باتیں انسان کی باتیں نہیں، یہ اس خدا کی وحی ہے جس کے آگے کوئی بات انہونی نہیں“۔(تحفہ گولڑویه ـ روحانی خزائن جلد 17صفحه 182) اب میں مختصراً جماعتی خدمات کا ذکر کرنا چاہتا ہوں جو گزشتہ ساؤتھ ایسٹ ایشیا کے ملکوں میں زلزلہ آیا تھا ان کے بارے میں۔یہ جو آفت زدہ لوگوں کی خدمت ہے اور جو مخلوق سے