خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 50
خطبات مسرور جلد سوم 50 خطبہ جمعہ 28 جنوری 2005ء صاحب کا بھی ذکر کیا تھا کہ بڑے پریشان تھے۔تو یا تو انہوں نے بڑے ڈرتے ڈرتے جس رقم کا مجھے بتایا تھا کہ ہم زیادہ سے زیادہ اتنی رقم اکٹھی کر سکتے ہیں یا پھر یہ حالت تھی خطبے کے بعد، جمعہ کو میں نے خطبہ دیا اور ہفتے کو میری واپسی تھی تو اس ایک رات کے دوران میں ہی ان کے اس خوفزدہ وعدے کی نسبت سے ڈیوڑھے سے زیادہ وعدہ اکٹھا ہو چکا تھا اور ادائیگیاں بھی ہو رہی تھیں۔اور مجھے امید ہے اب تک دو گنے سے زیادہ رقم انہوں نے اکٹھی کر لی ہوگی، جو ان کا اپنا اندازہ تھا۔اسی طرح دنیا بھر کے احمدیوں نے بھی بڑے فراخدلانہ وعدے پیش کئے ہیں اور ادائیگیاں کی ہیں۔اور اب میرا خیال ہے۔میں نے وہاں ذکر کیا تھا کہ ایک چھوٹا پلاٹ خریدا جائے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے فضل فرمایا ہے کچھ بڑا پلاٹ خریدنے کی کوشش کی جائے۔اللہ تعالیٰ مدد فرمائے۔سپین کے ضمن میں ایک اور بات بھی کہنا چاہتا ہوں کہ یورپ کے بہت سے احمدی سیر کرنے بھی پین جاتے ہیں۔یا مختلف جگہوں پر جاتے ہیں۔اگر ادھر ادھر جانے کی بجائے چین کی طرف رخ کریں تو زیادہ بہتر ہوگا۔حضرت خلیفہ اسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے ایک دفعہ تحریک فرمائی تھی کہ سپین میں وقف عارضی کے لئے جائیں۔سیر بھی ہو جائے گی اور اللہ کا پیغام پہنچانے کا ثواب بھی مل جائے گا۔تو اس طرف میں احمدیوں کو دوبارہ متوجہ کرنا چاہتا ہوں کہ اپنے ملکوں کے امراء کے ذریعے سے جو اس طرح وقف عارضی کر کے سپین جانا چاہتے ہوں ،امراء کی وساطت سے وکالت تبشیر میں اپنے نام بھجوائیں۔اسی طرح حضور رحمہ اللہ تعالیٰ نے سپین کے جو ٹورسٹ (Tourist) باہر جاتے ہیں مختلف ممالک میں اور ایشیا، پاکستان وغیرہ میں بھی جاتے ہیں۔ان سے رابطے کے لئے بھی ایک منصو بہ بنایا تھا کہ اگر ان کو اپنے گھروں میں مہمان ٹھہرایا جائے ، جن جن شہروں میں وہ جاتے ہیں یا ملکوں میں تو اس سے بھی ایک تعارف حاصل ہوگا۔لیکن یہ منصوبہ کس حد تک کامیاب ہوا اس کا ابھی مجھے جائزہ لینا ہے، تفصیلات دیکھنی ہیں۔ضرورت ہوئی تو جائزہ لینے کے بعد پھر جماعت کو بتاؤں گا ، توجہ دلاؤں گا۔اس میں یہ بھی تھا کہ اچھے ٹورسٹ کی معلومات لی جائیں اور یہ معلومات