خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 52
خطبات مسرور جلد سوم 52 خطبہ جمعہ 28 جنوری 2005ء ہمدردی ہے، یہ سنت نبوی ہے اور اس کا ہمیں حکم ہے کہ کمزوروں کی مدد کی جائے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو جو پہلی وحی ہوئی تھی اور آپ پر بڑے خوف کی حالت طاری تھی ، اُس وقت حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے آپ کو تسلی دیتے ہوئے جو باتیں کہی تھیں ان میں ایک یہ بھی تھا کہ آپ لوگوں پر آنے والی اچانک آفات میں ان کی مدد کرتے ہیں۔اس لئے کس طرح ہو سکتا ہے خدا آپ کو رسوا کرے۔پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ سخت دلوں میں اگر نرمی پیدا کرنی ہے تو اس کا نسخہ یہ ہے مساکین کو کھانا کھلاؤ اور یتیم کے سر پر ہاتھ رکھو۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس ضمن میں فرماتے ہیں کہ : "حقیقی نیکی کرنے والوں کی یہ خصلت ہے کہ وہ محض خدا کی محبت کے لئے وہ کھانے جو آپ پسند کرتے ہیں مسکینوں اور یتیموں اور قیدیوں کو کھلاتے ہیں۔اور کہتے ہیں کہ ہم تم پر کوئی احسان نہیں کرتے بلکہ یہ کام صرف اس بات کے لئے کرتے ہیں کہ خدا ہم سے راضی ہو اور اس کے منہ کے لئے یہ خدمت ہے۔ہم تم سے نہ تو کوئی بدلہ چاہتے ہیں اور نہ یہ چاہتے ہیں کہ تم ہمارا شکر کرتے پھرو۔یہ اشارہ اس بات کی طرف ہے کہ ایصال خیر کی تیسری قسم جو محض ہمدردی کے جوش سے ہے وہ طریق بجا لاتے ہیں۔(اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد 10 صفحه 357) پس اس ہمدردی کے جوش کے تحت اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت کے افراد نے مختلف ممالک میں ، ان ملکوں میں جہاں یہ طوفان اور زلزلہ آیا تھا، مختلف طریقوں سے آفت زدہ لوگوں کی مدد کی ہے اور کر بھی رہی ہے۔اس کی مختصر تفصیل یہ ہے۔بعض لوگوں کی خواہش ہے کہ ہمیں بھی بتایا جائے اور علم ہونا بھی چاہئے۔جیسا کہ ساروں کو علم ہے کہ تقریباً اڑھائی لاکھ افراد اب تک کہتے ہیں جاں بحق ہوئے ہیں ، شاید اس سے زیادہ بھی ہو جائیں۔تو ہیومینٹی فرسٹ جو جماعتی ادارہ ہے خدمت خلق کا اس کے تحت مختلف ملکوں میں ذمہ واری سونپی گئی تھی۔اس کے تحت جماعت جرمنی نے اور بھارت نے ملک کر ہندوستان میں یہ خدمت خلق کی کارروائی کی اور علاج معالجے کی وہاں سہولتیں بہم پہنچا