خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 565
خطبات مسرور جلد سوم 565 خطبہ جمعہ 16 ستمبر 2005ء شک نہیں ، ہدایت دینے والی ہے متقیوں کو۔پس جیسا کہ پہلے بیان ہو چکا ہے۔اپنے رب کی عبادت کرو تو تقویٰ میں بڑھو گے۔اور تقویٰ میں بڑھنے کے لئے قرآن کریم جو خدا کا کلام ہے اس کو بھی پڑھنا ضروری ہے ، اس پر عمل کرنا بھی ضروری ہے۔پس تقویٰ اس وقت تک مکمل نہیں ہو گا جب تک قرآن کریم کو پڑھنا اور اس پر عمل کرنا زندگیوں کا حصہ نہ بنالیا جائے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ اللہ جل شانہ نے قرآن کریم کے نزول کی علت غالى هُدًى لِلْمُتَّقِين قرار دی ہے۔( یعنی اس کا مقصد متقیوں کے لئے ہدایت ہے ) اور قرآن کریم سے رشد اور ہدایت اور فیض حاصل کرنے والے با تخصیص متقیوں ہے۔“ کو ہی ٹھہرایا ہے آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد 5 صفحه 139) یعنی خاص طور پر جو تقویٰ میں بڑھنے والے ہوں گے وہی قرآن کریم سے رہنمائی حاصل کریں گے۔ایک حدیث میں آتا ہے۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب بھی کوئی قوم قرآن کریم پڑھنے کے لئے اور ایک دوسرے کو پڑھانے کے لئے خدا تعالیٰ کے گھروں میں سے کسی گھر میں اکٹھی ہوتی ہے تو ان پر سکینت نازل ہوتی ہے اور رحمت ان کو ڈھانپ لیتی ہے اور فرشتے ان کے گرد حلقے بنا لیتے ہیں۔(سنن ابی داؤد - كتاب الوتر - باب في ثواب قراءة القرآن ) پس اللہ تعالیٰ کی رحمت کو جذب کرنے کے لئے اور فرشتوں کے حلقے میں آنے کے لئے ضروری ہے کہ ہم میں سے ہر ایک قرآن کریم پڑھے اور اس کو سمجھے ، اپنے بچوں کو پڑھائیں ، انہیں تلقین کریں کہ وہ روزانہ تلاوت کریں۔اور یاد رکھیں کہ جب تک ان چیزوں پر عمل کرنے کے ماں باپ کے اپنے نمونے بچوں کے سامنے قائم نہیں ہوں گے اس وقت تک بچوں پر اثر نہیں ہو گا۔اس لئے فجر کی نماز کے لئے بھی اٹھیں اور اس کے بعد تلاوت کے لئے اپنے پر فرض کریں کہ تلاوت کرنی ہے پھر نہ صرف تلاوت کرنی ہے بلکہ توجہ سے پڑھنا ہے اور پھر بچوں کی بھی نگرانی کریں کہ وہ بھی پڑھیں ، انہیں بھی پڑھائیں۔جو چھوٹے بچے ہیں ان کو بھی پڑھایا جائے۔