خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 566
خطبات مسرور جلد سوم 566 خطبہ جمعہ 16 ستمبر 2005ء آنحضرت علہ نے ہمیں قرآن کریم پڑھنے کا طریقہ بھی سکھایا ہے، کس طرح پڑھنا ہے۔آپ نے فرمایا کہ " قرآن کو ٹھہر ٹھہر کر صاف صاف پڑھو اور اس کے غرائب پر عمل کرو۔“ (مشكوة المصابيح ، كتاب فضائل القرآن الفصل الثالث) غرائب سے مراد اس کے وہ احکام ہیں جو اللہ تعالیٰ نے فرض کئے ہیں اور وہ احکام ہیں جن کو کرنے سے اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا ہے۔جب قرآن کریم اس طرح ہر گھر میں پڑھا جا رہا ہوگا، غور ہورہا ہوگا، ہر حکم جس کے کرنے کا خدا تعالیٰ نے ہمیں حکم دیا ہے اس پر عمل ہورہا ہو گا اور ہر وہ بات جس کے نہ کرنے کا اللہ تعالیٰ کا حکم ہے اس سے بیچ رہے ہوں گے ، اس سے رک رہے ہوں گے تو ایک پاک معاشرہ بھی قائم کر رہے ہوں گے۔عبادتوں کے معیاروں کے ساتھ ساتھ آپ کے اخلاق کے معیار بھی بلند ہو رہے ہوں گے۔آپس کی رنجشیں دور کرنے کی بھی کوشش ہو رہی ہوگی۔جھوٹی اناؤں اور عزتوں سے بھی بیچ رہے ہوں گے۔تقویٰ پر قدم مارتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کی بھی آپ کوشش کر رہے ہوں گے۔اگر ایک شخص بظا ہر نمازیں پڑھنے والا ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے جو قرآن کریم میں احکامات دیئے ہیں ان پر عمل نہیں کر رہا تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ ایسے نمازیوں کی نمازوں کو ان کے منہ پر مارتا ہے۔یہی نمازیں ہیں جو نمازیوں کے لئے لعنت بن جاتی ہیں۔پس اللہ تعالیٰ نے بھی ان عبادتوں کا ذکر کیا ہے جو تقویٰ میں بڑھاتی ہیں۔اور تقویٰ بڑھتا ہے ان احکامات پر عمل کرنے سے جو قرآن کریم نے بیان فرمائے ہیں۔جن کی تعداد حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے پانچ سو یا سات سو بتائی ہے۔اور آپ نے فرمایا کہ جوان حکموں پر عمل نہیں کرتا اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔پس یہ ہوشیاری یا چالا کی کسی کام نہیں آئے گی۔بعض لوگوں کو اپنی علمیت پر بڑا ناز ہوتا ہے اور دوسروں کے علم کا استہزاء کر رہے ہوتے ہیں۔یا کسی اور بات کا بڑا فخر ہے اس پر استہزاء ہو رہا ہوتا ہے مذاق اڑا رہے ہوتے ہیں۔تو چاہے وہ قرآن کریم کا علم ہو یا کوئی اور علم ہو کیونکہ یہ علم جو ہے یہ تقویٰ سے عاری ہوتا ہے اس لئے اس علم کی بھی اللہ تعالیٰ کو کوئی پرواہ نہیں جو اس نے حاصل کیا ہے۔بے فائدہ علم ہے۔تو اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے کہ ان احکامات پر عمل کرو۔اگر صرف پڑھ لیا دوسروں کو بتادیا اور خود عمل نہ کیا