خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 49
خطبات مسرور جلد سوم 49 خطبہ جمعہ 28 جنوری 2005ء دشمنی اور طاقت کے باوجود گزشتہ چھ سو ، سات سو سال سے یہ عمل ان کے قبضے میں ہے اور اس پر لکھے ہوئے کلمہ کو انہوں نے محفوظ رکھا ہے۔لیکن ہمارے ملک کے بدنصیب ملاں احمدیت کی دشمنی میں کلمہ گوئی کا دعوی کرنے کے باوجود، کلمہ مثانے کی کوشش میں ہے۔میں ان کو کہتا ہوں اے پاکستانی مولویو! کچھ تو ہوش کرو، کچھ تو خدا کا خوف کرو، اللہ سے ڈرو اور ان حرکتوں سے باز آؤ کہیں یہ کلمہ تمہاری ان حرکتوں کی وجہ سے تمہیں ہی نہ مٹا دے۔اللہ بھی اپنی سنت کے مطابق ایک حد تک ڈھیل دیتا ہے۔کہیں یہ نہ ہو کہ وہ وقت اب قریب ہو، اگر اب بھی تم نے اپنے آپ کو نہ بدلا تو یقیناً مٹ جاؤ گے۔پس اللہ سے رحم مانگو، اللہ سے رحم مانگو اور اپنی اصلاح کرلو۔جلسہ سپین بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے بڑا کامیاب رہا۔پہلی دفعہ اس طرح سر براہ حکومت کے پیغام وغیرہ ملے ، حکومت کے نمائندے آئے ، وزارت انصاف کے ڈائر یکٹر وغیرہ ، ان کے بڑے اچھے تاثرات تھے۔ایک عیسائی سپینش مجھے ملے ، وہ کتابیں لکھتے ہیں انہوں نے ایک کتاب لکھی جس میں انہوں نے بڑے اچھے الفاظ میں احمدیت کا ذکر کیا ہوا ہے۔کہنے لگے میں بھی آدھا احمدی ہوں، تو میں نے کہا پھر پورے کیوں نہیں ہو جاتے ، کہ ابھی وقت نہیں ہے ان رو کو بھی کچھ خوف تھا۔پھر اس طرح اور بعض عیسائی خاندان آئے ہوئے تھے ملے ، ایکواڈور کی و تین فیملیاں تھیں، وہ قرطبہ سے جلسے پر آئے ہوئے تھے کسی احمدی کے واقف تھے، ان میں سے ایک بڑی پڑھی لکھی خاتون کہنے لگیں کہ آپ نے اس چھوٹی سی جگہ پر مسجد بنائی ہے یہاں کون آتا ہو گا اور پھر آپ سارے پین میں کس طرح پھیلیں گے۔بڑے شہروں میں بنائیں تا کہ تعارف زیادہ ہو۔میری آخری تقریر سننے کے بعد مجھے ملی تھیں۔میں نے انہیں یہی کہا کہ آج کی تقریر میں میں ذکر کر چکا ہوں کہ یہ ایک مسجد کی عاجزانہ ابتدا تھی اور انشاء اللہ تعالیٰ ہم اور بھی بنا ئیں گے اور انشاء اللہ اسلام کو سب سپین میں دوبارہ جائیں گے۔پھر مقامی سپینش بھی بہت سارے جلسے میں شامل ہوئے اور کافی متاثر تھے۔بہر حال ان باتوں کو دیکھتے ہوئے مجھے تحریک ہوئی کہ اب پین میں مسجدوں کی تعمیر ہونی چاہئے جس کی میں نے وہاں ایک خطبے میں تحریک بھی کی تھی۔اور امیر