خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 523
خطبات مسرور جلد سوم 523 خطبہ جمعہ 26 اگست 2005 ء چاہئے۔بے چینی سے اس کی غلطیوں کو لوگوں پہ ظاہر نہیں کرنا۔بے چینی اصلاح کے لئے ہونی چاہئے اور وہیں بات کرنی چاہئے جہاں سے اصلاح کا امکان ہو۔اگر خو د اصلاح نہیں کر سکتے تو جس طرح میں نے کہا ہے پھر عہدیداروں کو بتا ئیں، مجھے بتائیں۔اور پھر یہ عہد یدار رحم اور محبت کے جذبات کے ساتھ اس شخص کی اصلاح کی طرف توجہ کریں۔ایک روایت میں آتا ہے حضرت عامر کہتے ہیں کہ میں نے نعمان بن بشیر کو یہ کہتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ نے فرمایا تو مومنوں کو ان کے آپس کے رحم ، محبت و شفقت کرنے میں ایک جسم کی طرح دیکھے گا۔جب جسم کا ایک عضو بیمار ہوتا ہے۔اس کا سارا جسم اس کے لئے بے خوابی اور بخار میں مبتلا رہتا ہے۔(بخاری کتاب الأدب۔باب رحمة الناس والبهائم) پس معاشرے کو تکلیف سے بچانے کے لیے اپنے آپ کو اس بیماری سے بچانے کے لیے پاک دل ہو کر اصلاح کی کوشش کرنی چاہئے ، دعا کرنی چاہئے۔یہ رویے اگر ہوں گے تو یقیناً یہ ایسے رویے ہیں جو معاشرے کو اللہ تعالیٰ کے احکامات کے مطابق ڈھالنے والے ہوں گے۔صلى پھر آپس کے تفرقہ کو دور کرنے کے لیے، آپس میں محبت کرنے کے لیے آنحضرت عبید الا الله نے ایک نہایت خوبصورت اصل ہمیں بتا دیا۔عليه روایت میں آتا ہے حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت رسول کریم صلی اللہ نے فرمایا کہ ایک مسلمان کے لئے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ اپنے بھائی سے تین راتوں سے زیادہ قطع تعلق رکھے اور یہ کہ وہ راستے میں ایک دوسرے سے ملیں تو منہ پھیر لیں۔ان دونوں میں سے بہترین وہ ہے جو سلام میں پہل کرے۔(الادب المفرد للبخاری، باب من بدا بالسلام) پس آپس کی رنجشوں کو لمبا نہیں کرنا چاہئے اس سے تفرقہ پیدا ہوتا ہے اور بڑھتے بڑھتے جماعتی و قار کو نقصان پہنچاتا ہے۔غیر اس سے فائدہ اٹھاتا ہے۔کئی خط آتے ہیں لوگ لکھتے ہیں کہ فلاں شخص کے ساتھ ناراضگی تھی، آپ کے کہنے پر جب میں اس کے پاس گیا اور اس سے اپنی غلطی کی معافی مانگی تو اس نے سختی سے مجھے جھڑک دیا۔وہ بات کرنے کا روادار نہیں ، سلام کرنے کا روادار نہیں۔یہاں جرمنی میں کئی ایسے واقعات ہیں۔