خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 522 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 522

خطبات مسرور جلد سوم 522 خطبہ جمعہ 26 اگست 2005 ء کر رہے ہوں گے۔اسی طرح افراد جماعت ایک دوسرے کا احترام کر رہے ہوں گے اور خیال رکھ رہے ہوں گے۔ضرورتیں پوری کر رہے ہوں گے۔قربانی دینے کا شوق پیدا ہورہا ہوگا۔پس اس بات کو چھوٹی نہ سمجھیں۔یہی باتیں آپ کو اعلیٰ اخلاق کی طرف لے جانے والی ہیں اور انہیں باتوں کے اپنانے سے اپنی زندگیوں کا حصہ بنانے سے، اپنے اوپر لاگو کرنے سے ، ہم جماعت کی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہے ہوں گے۔ان باتوں کے اختیار کرنے کی طرف توجہ کرنے کیلئے آنحضرت علی یا اللہ نے بھی مختلف طریقوں سے ہمیں سمجھایا ہے کہ آپس میں اخوت اور بھائی چارے کی فضا کس طرح پیدا کرنی ہے۔ایک روایت میں آتا ہے۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت اللہ نے فرمایا جو شخص بھی کسی کی بے چینی اور اس کے کرب کو دور کرتا ہے۔اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے کرب اور اس کی بے چینی کو دور کرے گا۔اور جو شخص کسی تنگ دست کے لیے آسانی مہیا کرتا ہے۔اللہ تعالیٰ دنیا اور آخرت میں اس کے لیے آسانی اور آرام کا سامان بہم پہنچائے گا اور جو شخص دنیا میں کسی مسلمان کی پردہ پوشی کرتا ہے۔اللہ تعالیٰ دنیا و آخرت میں اس کی پردہ پوشی کرے گا۔اللہ تعالیٰ اس شخص کی مدد کر تا رہتا ہے جب تک وہ اپنے بھائی کی مدد کے لیے کوشاں رہتا ہے۔(ترمذى كتاب البر والصلة باب فى السترة على المسلم) پس یہ آسانیاں پیدا کرنا بھی محبت بڑھانے کا ذریعہ ہے۔خاص طور پر ایک دوسرے کی پردہ پوشی کی طرف بہت توجہ دیں۔لیکن یہاں ایک وضاحت بھی کر دوں۔اس کا یہ مطلب بھی نہیں ہے کہ غلاظت کو معاشرے میں پلنے اور بڑھنے دیا جائے اور جو غلط حرکات ہورہی ہوں ان سے اس طرح پردہ پوشی کی جائے کہ جو معاشرے پر برا اثر ڈال رہی ہو۔اس کی اطلاع عہد یداران کو دینی ضروری ہے۔مجھے بتائیں لیکن آپس میں ایک دوسرے سے باتیں کرنا یا کسی کے متعلق باتیں سن کے آگے پھیلانا یہ غلط طریق کار ہے۔اس معاملے میں پردہ پوشی ہونی چاہئے۔لیکن اصلاح کی خاطر بتانا بھی ضروری ہے۔لیکن ہر جگہ بات کرنے سے پر ہیز کرنا چاہئے۔یہ برائیاں اگر کوئی کسی میں دیکھتا ہے تو ایک احمدی کو بے چین ہو جانا چاہئے ، اس کی اصلاح کی کوشش کرنی