خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 524
خطبات مسرور جلد سوم 524 خطبہ جمعہ 26 اگست 2005 ء تو جیسا کہ میں نے کہا یہ بڑا غلط طریقہ ہے۔صلح کی بنیاد ڈالنی چاہئے۔اوّل تو ہر ایک کو پہل کرنی چاہئے۔یہ نظارے نظر آنے چاہئیں کہ دونوں ایک دوسرے کی طرف دوڑے آئیں۔ایک دوسرے کو معاف کرنے کی عادت ڈالیں۔اور پہلے صلح کی بنیاد ڈال کر بہترین مسلمان بنیں اور اسلام اور احمدیت کی مضبوطی کا باعث بنیں۔ایک روایت میں آتا ہے حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت نبی کریم علی اللہ نے فرمایا کہ ایک مومن دوسرے مومن کے لیے عمارت کی مانند ہے جس کا ایک حصہ دوسرے حصے کو تقویت پہنچارہا ہوتا ہے۔پھر آپ نے اپنے ایک ہاتھ کی انگلیوں کو دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں خوب اچھی طرح سے پیوست کر کے ( یوں بنا کر ) بتایا کہ ایک حصہ دوسرے کے لیے اس طرح تقویت کا باعث ہوتا ہے۔(صحیح بخاری، کتاب الصلوة ، باب تشبیک الاصابع فی المسجد) تو دیکھیں کیا تو قعات ہیں آنحضرت علیل اللہ کو ہم سے۔اس زمانے میں احمدی ہو کر ہم نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ہاتھ پر یہ عہد کیا ہے کہ آنحضرت علیم اللہ کے اقوال کو اپنا دستورالعمل بناؤں گا۔ایک فکر کے ساتھ اگر ان اقوال پر عمل کرنے کی کوشش کریں تو اپنے اندر پاک تبدیلیاں پیدا کرنے والے بن جائیں گے۔معاشرے کو حسین بنانے والے بن جائیں گے۔ایک روایت میں آتا ہے۔حضرت رسول کریم صلی اللہ نے فرمایا کہ اللہ کے بندوں میں سے کچھ ایسے لوگ ہیں جو نہ تو نبی ہوتے ہیں اور نہ ہی شہید۔مگر انبیاء اور شہداء بھی قیامت کے دن ان کے اس مرتبہ پر رشک کریں گے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے انہیں ملے گا۔لوگوں نے کہا کہ اے اللہ کے رسول ! یہ کون لوگ ہوں گے؟ آپ نے فرمایا کہ یہ وہ لوگ ہوں گے جو نہ آپس میں ایک دوسرے کے رشتہ دار تھے اور نہ ہی وہ آپس میں مالی لین دین کرتے تھے بلکہ محض اللہ وہ ایک دوسرے سے محبت کرتے تھے۔تو فرمایا بخدا ان کے چہرے اس دن نورانی ہوں گے اور ان کے چاروں طرف نور ہی نور ہوگا۔انہیں اس وقت کوئی خوف نہ ہوگا جبکہ لوگ خوف میں مبتلا ہوں گے۔اور نہ ہی انہیں کوئی غم ہو گا اس وقت جبکہ لوگ غم میں مبتلا ہوں گے۔پھر آپ نے یہ آیت پڑھی