خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 46
خطبات مسرور جلد سوم 46 خطبہ جمعہ 28 /جنوری 2005ء عین اسلام کے مطابق ہے۔تو میں نے ان کو بتایا کہ یہ تو ہماری تعلیم کا حصہ ہے یہ تم نے دیکھ لیا سن لیا، تم اب اپنی بیٹی کو بھی جانتی ہو ، یقینا اس کی دینی حالت کا احمدیت قبول کرنے سے پہلے کا بھی تمہیں علم ہوگا اور اب کا بھی ہے۔پھر تمہارے دوسرے بچے بھی ہیں جو مسلمان ہیں ، تم بتاؤ کہ احمدیت قبول کرنے کے بعد تمہاری بیٹی کی دینی حالت اچھی ہوئی ہے یا اور خراب ہوئی ہے۔کہنے لگیں ( وہ تین عورتیں تھیں) کہ ہمارے بچے جو احمدی ہوئے ہیں باقی بچوں کی نسبت گھر میں اسلام کی عملی تصویر کا یہی نمونہ ہیں۔میں نے ان کو کہا کہ اگر ایسی بات ہے تو پھر تم ان پر سختیاں کیوں کر رہی ہو۔ان اچھوں میں تو تم لوگوں کو بھی شامل ہونا چاہیئے اور اپنے خاندان کو بھی شامل کرنا چاہئے۔تو بہر حال ان کے دل کافی نرم ہو گئے۔کچھ نے کہا ہم سوچیں گے احمدی ہونے کے بارے میں۔ایک عورت نے تو وہیں کہا کہ میں بیعت کروں گی۔تو اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے چھوٹی سی باتوں سے بعض دفعہ دلوں کو بدل دیتا ہے۔ان لوگوں میں شرافت ہے، ہمارے بعض لوگوں اور مولویوں کی طرح بزدل اور ڈھیٹ نہیں ہیں کہ مولوی کا خوف زیادہ ہو اور اللہ کا خوف کم ہو بہر حال جیسا کہ میں نے کہا کہ جانے سے پہلے اکثر کے رویے بالکل نرم ہو چکے تھے۔انہوں نے یہ نہیں کہا کہ احمدی ہوتی ہیں، لیکن بہر حال یہ وعدہ کر کے گئیں کہ اب ہم اپنے احمدی بچوں سے نرم سلوک کریں گے نرمی کا سلوک کریں گے۔اللہ تعالیٰ ان سب بیعت کرنے والوں کو بھی ثبات قدم عطا فرمائے۔پھر پین کا دورہ تھا۔پین بھی گو یورپ کا حصہ ہے لیکن مجھے تو یورپ سے بالکل مختلف لگا۔جو لوگ بھی سپین جاچکے ہیں۔اکثر کی یہ رائے ہے ، وہاں جا کر یہ احساس بھی ہوتا ہے کہ یہ ملک جہاں چھ سات سو سال پہلے تک مسلمانوں کی حکومت تھی ، جہاں خدائے واحد کا نام بلند کرنے کے لئے ایک شہر میں کئی سو مساجد تھیں، جہاں سے پانچ وقت أَشْهَدُ أَنْ لَّا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللہ کی آواز میں گونجتی تھیں اور اب یہ مساجد یا تو گرا دی گئی ہیں اور جو زیادہ بڑی تھیں، اچھی تھیں، ان کو چرچ میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔تو بہر حال یہاں بھی جا کے عجیب کیفیت ہوتی ہے۔جلسہ سے پہلے ایک دن ہم قرطبہ کی مسجد دیکھنے کے لئے گئے یہاں مسجد کے