خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 47 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 47

خطبات مسرور جلد سوم 47 خطبہ جمعہ 28 جنوری 2005ء عین درمیان میں اب عیسائیوں نے ایک چرچ بنا دیا ہے، پرانا بنایا ہوا ہے۔لیکن باقی مسجد کا حصہ محفوظ ہے، محراب وغیرہ۔اس طرف کسی کو جانے تو نہیں دیتے لیکن بہر حال انہوں نے دکھایا۔یہاں جو چرچ ہے اس کی وجہ سے وہاں بشپ کے نمائندے نے استقبال کیا، ہمیں ریسیو (Receive) کیا۔اور ان کا نیچے بیسمنٹ (Basement) میں ایک کانفرنس روم، کافی بڑا تھا اس میں وہ لے گیا۔میں نے کہا ہم نے تو مسجد دیکھنی ہے وہاں جانے کی کیا ضرورت ہے۔لیکن شاید اس کو یہی ہدایت تھی۔بہر حال وہاں لے جا کر انہوں نے ہمیں با قاعدہ بٹھایا جس طرح کوئی کانفرنس ہوتی ہے۔اور وہاں فارمل و یکم (Formal Welcome) کیا ، خوش آمدید کہا اور جماعت کا بھی جتنا اس پادری کو تعارف تھا اس نے اچھے الفاظ میں اس کا ذکر کیا۔پھر اس کے بعد میں نے بھی چند الفاظ میں ان کا شکریہ ادا کیا اور بتایا کہ آپس میں مل جل کر رہنے اور امن قائم کرنے کے لئے ہمیں اپنے پیدا کرنے والے خدا کی پہچان کرنی ہو گی ، ایک خدا کی طرف آنا ہو گا۔بہر حال اس نے سب باتیں سنیں بلکہ وہ تو یہاں تک تیار تھا کہ اگر وقت ہو تو میں سارے شہر کے پادریوں کو اکٹھا کرلوں اور انہیں بھی آپ ایڈریس کریں۔کیونکہ پہلے پروگرام نہیں تھا اس لئے یہ تو نہ ہو سکا۔اب وہاں کے جو مبلغین ہیں انہیں چاہئے کہ ان لوگوں سے رابطہ رکھیں۔پھر اشبیلیہ جسے اب سپینش میں سویہ (Sevilla) کہتے ہیں۔وہاں گئے۔یہاں بھی جو پہلے ایک مسجد تھی اس کو بھی اب چرچ میں بدل دیا گیا ہے اور ساتھ محل ہے۔عبدالرحمان اول کے زمانے کا بنا ہوا محل ہے یہاں بھی استقبال ہوا۔مجھے تو یہ بھی نہیں پتہ تھا کہ یہاں استقبال ہوگا۔لیکن بہر حال پادری صاحب نے استقبال کیا اور اپنا تحفہ بھی دیا۔میں نے بھی ان کو لٹریچر دیا، اسلامی اصول کی فلاسفی اور دوسری چیزیں۔ایک قرآن کریم بھی دیا تھا۔تو بہر حال استقبال کے بعد ہم نے مسجد بھی دیکھی، جیسا کہ میں نے کہا اسے اب چرچ میں بدل دیا گیا ہے۔یہ پتہ نہیں کہ ان پادریوں کا، اللہ بہتر جانتا ہے کہ جماعت کو احترام دینے کی کیا وجہ ہے؟ کیوں توجہ پیدا ہوئی ہے۔چند دن ہوئے یہاں بیت الفتوح میں امن کا نفرنس ہوئی تھی ، یہاں بہت سارے لوگ آئے ہوئے تھے۔مختلف مذاہب کے لوگ ہمبر ز آف پارلیمنٹ اور بعض پادری بھی تھے۔تو مجھے