خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 45 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 45

خطبات مسرور جلد سوم 45 خطبہ جمعہ 28 جنوری 2005ء کا آپ کا الہام بھی ہے۔فرانس میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے مرا کو، الجزائر اور بعض دوسرے چھوٹے ملکوں کے لوگ بھی احمدی ہو رہے ہیں۔اس معاملے میں بھی فرانس کی جماعت ما شاء اللہ کافی فعال ہے، اچھا کام کر رہی ہے۔اللہ تعالیٰ ان سب کو سنبھالنے کی بھی توفیق عطا فرمائے۔ایک لمبے عرصے کے بعد اب وہاں مشنری کی بھی تعیناتی ہوگئی ہے، ان کو مبلغ بھی مل گئے ہیں۔امید ہے کہ اب مزید اس سے بہتر نتائج پیدا ہوں گے۔اور پچھلے سال بھی جب میں گیا تھا، وہاں دستی بیعتیں ہوئی تھیں۔اس سال بھی ہوئیں۔اور اس دفعہ تو سوئٹزر لینڈ سے بھی تین چار احباب جنہوں نے گزشتہ سال سوئٹزر لینڈ کا جلسہ سنا تھا، ان میں سے کچھ لوگ آئے تھے پھر بیعت کرنے کے لئے آ گئے۔تو اس طرح فرانس میں دودن بیعت ہوئی۔مرا کو اور الجزائر کی جو عورتیں ہیں، ان میں بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے احمدیت قبول کرنے کی طرف توجہ پیدا ہورہی ہے اور پڑھی لکھی لڑکیوں میں مذہبی رجحان ہے اور بڑے اخلاص و وفا کے ساتھ عہد بیعت کو نبھا رہی ہیں۔بلکہ سختیاں برداشت کرنے کے باوجود اپنے خاندان والوں کو بھی تبلیغ کر رہی ہیں، اپنے گھر والوں کو بھی تبلیغ کر رہی ہیں۔اور بڑے درد کے ساتھ اس بات کا احساس رکھتی ہیں اور دعا کے لئے کہتی ہیں کہ ہمارے گھر والے بھی احمدیت قبول کر کے اپنی عاقبت سنوارنے والے بن جائیں۔کئی عورتوں اور لڑکیوں نے جو پڑھی لکھی ہیں، یونیورسٹیوں میں پڑھ رہی ہیں، ہچکیوں سے روتے ہوئے مجھے کہا کہ دعا کریں ہماری مائیں، ہمارے باپ، ہمارے بھائی ، احمدی ہو جائیں۔تو ایک دو کو تو میں نے کہا کہ اپنی ماؤں کو جو ذرا سا نرم گوشہ رکھتی تھیں، کسی نہ کسی طرح جلسے پر لے آؤ، چنانچہ اگلے دن وہ لے بھی آئیں۔تو ان ماؤں سے اس کے بعد ملاقات بھی تھی۔تین چارلڑکیوں کی وہ مائیں تھیں۔جب ان کی غیر احمدی مائیں آئیں، مسلمان تھیں، تو میں نے ان سے پوچھا کہ تمہاری بیٹیاں احمدی ہیں اور تم لوگ صرف اس وجہ سے ان پر سختیاں کر رہے ہو کہ وہ احمدی کیوں ہیں۔آج تم نے ہمارا یہ جلسہ سنا ہے، مجھے بتاؤ کہ تمہیں یہاں کیا چیز ایسی گی ہے جو اسلامی تعلیم کے خلاف ہو۔کہنے لگیں کچھ نہیں بلکہ یہاں ہر چیز